سندھ میں مقامی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے اور بلدیاتی فنڈز کی شفافیت کا معاملہ
کراچی: صوبہ سندھ، خصوصاً کراچی کے مختلف اضلاع میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور بلدیاتی سہولیات کی فراہمی کے لیے کئی نئے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ سندھ لوکل گورنمنٹ بورڈ اور بلدیاتی اداروں کی جانب سے سڑکوں کی تعمیرِ نو، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور پارکس کی تزئین و آرائش کے لیے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم، عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے ان منصوبوں کی رفتار اور فنڈز کے استعمال میں مکمل شفافیت برقرار رکھنے پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے، تاکہ عوامی ٹیکس کا پیسہ درست جگہ پر خرچ ہو سکے۔
تفصیلات کے مطابق، شاہ فیصل ٹاؤن، کورنگی، ملیر اور شہر کے دیگر وسطی علاقوں میں سڑکوں کے گڑھوں کو بھرنے اور سیوریج لائنوں کو تبدیل کرنے کا کام جاری ہے۔ طویل عرصے سے بنیادی مسائل کا شکار ان علاقوں کے مکینوں نے ترقیاتی کاموں کے آغاز کا خیرمقدم تو کیا ہے، لیکن ساتھ ہی مٹیریل کے معیار پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ مقامی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ ماضی میں ناقص منصوبہ بندی کے باعث چند ہی مہینوں میں کروڑوں روپے کی لاگت سے بنی سڑکیں دوبارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی تھیں، اس لیے اس بار کام کی نگرانی کو سخت کیا گیا ہے اور پراجیکٹ مینیجرز کو مانیٹرنگ شیٹس جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری طرف، ماہرینِ تعمیرات کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے مسائل کا مستقل حل صرف اس صورت میں ممکن ہے جب طویل مدتی ماسٹر پلان کے تحت کام کیا جائے۔ عارضی مرمت کے بجائے برسات کے پانی کی نکاسی کے لیے مستقل نالوں کی صفائی اور جدید ڈیزائننگ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بلدیاتی اداروں میں ملازمین کی حاضری، تنخواہوں کے بروقت اجرا اور انتظامی احتساب کے نظام کو فعال کرنا ہوگا تاکہ افسر شاہی اور نچلے عملے کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔ حکومتِ سندھ نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام ترقیاتی اسکیموں کا آن لائن ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے جس سے شہریوں کو بھی منصوبوں کی پیشرفت جاننے کا موقع ملے گا۔
