کھیلوں کی دنیا صحت، اتحاد اور پاکستان کا مستقبل
تحریر: فرقان فاروقی
کھیل کسی بھی معاشرے میں محض تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ قوموں کی تعمیر، نوجوانوں کی تربیت اور ملک کا نام روشن کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کھیل انسان کو ڈسپلن، ٹیم ورک اور ہار جیت کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا سکھاتے ہیں۔ آج جب دنیا کھیلوں کو ایک بڑی صنعت کا درجہ دے چکی ہے، پاکستان کے لیے بھی یہ شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
کرکٹ: جنون سے آگے کا سفر
پاکستان میں کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے جو پوری قوم کو رنگ، نسل اور زبان کے فرق سے بالاتر ہو کر ایک پرچم تلے اکٹھا کر دیتا ہے۔ ہماری کرکٹ کی تاریخ عظیم فتوحات سے بھری پڑی ہے۔ آج پاکستان سپر لیگ (PSL) نے نہ صرف دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو پاکستان لا کر ملک کا ایک پرامن امیج پیش کیا ہے، بلکہ اس سے ہماری مقامی معیشت اور سیاحت کو بھی زبردست فروغ ملا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جنون کو گراس روٹ (مقامی) سطح پر لے جایا جائے تاکہ گلی محلوں سے نیا ٹیلنٹ سامنے آ سکے۔
ہاکی اور سکواش: کھوئے ہوئے وقار کی بحالی
ایک دور تھا جب ہاکی اور سکواش کے میدانوں میں پاکستان کی بادشاہت قائم تھی۔ اولمپکس اور ورلڈ کپ میں ہمارا طوطی بولتا تھا اور جہانگیر خان و جانشیر خان نے سکواش کی دنیا پر راج کیا۔ اگرچہ حالیہ سالوں میں ان کھیلوں میں ہمارا گراف نیچے آیا ہے، لیکن ٹیلنٹ آج بھی موجود ہے۔ اگر اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر ہاکی اور سکواش کو دوبارہ لازمی قرار دیا جائے اور کھلاڑیوں کو جدید سہولیات اور وظائف دیے جائیں، تو ہم اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔
اولمپکس اور دیگر کھیل: ارشد ندیم جیسے ہیروز کی ضرورت
ہمارے پاس اولمپکس کے کھیلوں جیسے کہ ایتھلیٹکس، ویٹ لفٹنگ، اور باکسنگ میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ ارشد ندیم نے نیزہ بازی (Javelin Throw) میں عالمی سطح پر میڈل جیت کر یہ ثابت کیا کہ اگر عزم سچا ہو تو وسائل کی کمی آڑے نہیں آتی۔ پاکستان کے دور دراز علاقوں، جیسے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فٹ بال اور مارشل آرٹس کا زبردست ٹیلنٹ موجود ہے، جس کی اگر صحیح معنوں میں سرپرستی کی جائے تو پاکستان اولمپکس میں درجنوں میڈلز جیت سکتا ہے۔
کلمہءِ آخر: نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے میدان آباد کرنا
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہسپتال ویران ہوں، تو ہمیں اپنے کھیلوں کے میدان آباد کرنے ہوں گے۔ حکومت، کارپوریٹ سیکٹر اور میڈیا کو مل کر روایتی کھیلوں کے ساتھ ساتھ دیگر کھیلوں کی بھی پبلسٹی اور فنڈنگ کرنی چاہیے۔ جب ہمارے نوجوان اسپورٹس مین اسپرٹ کے ساتھ میدانوں کا رخ کریں گے، تو معاشرے سے مایوسی کا خاتمہ ہوگا اور ایک صحت مند، چست اور پرامید پاکستان جنم لے گا۔
