پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں اور زراعت پر اثرات: فوڈ سیکیورٹی کا نیا چیلنج
لاہور: پاکستان ان ممالک کی فہرست میں نمایاں ہے جو عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ امسال موسمِ گرما کی جلد آمد، ہیٹ ویو کی لہر اور بارشوں کے غیر متوقع سلسلے نے ملک کے زرعی شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے زرخیز علاقوں میں کپاس، گندم اور چاول کی فصلوں کی پیداوار میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث ماہرینِ زراعت نے مستقبل قریب میں ملک کے اندر فوڈ سیکیورٹی (غذائی تحفظ) کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
زرعی ماہرین کی رپورٹ کے مطابق، درجہ حرارت میں اچانک اضافے کی وجہ سے فصلوں کو پانی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ دوسری طرف گلیشیئرز پگھلنے کے باعث ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ غیر معمولی طور پر بڑھ جاتا ہے جو بعض اوقات سیلابی صورتحال اختیار کر لیتا ہے۔ اس دوہرے چیلنج نے کسانوں کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ روایتی طریقوں سے کاشتکاری کرنے والے چھوٹے زمینداروں کے پاس جدید آلات اور ایسے بیج موجود نہیں ہیں جو شدید موسم یا پانی کی کمی کو برداشت کر سکیں۔ اس کے نتیجے میں فی ایکڑ پیداوار کم ہو رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر مارکیٹ میں سبزیوں اور اناج کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے زرعی یونیورسٹیوں اور سرکاری تحقیقی اداروں نے مشترکہ کوششیں شروع کر دی ہیں۔ کسانوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ “سمارٹ ایگریکلچر” یعنی جدید طرزِ کاشتکاری کی طرف آئیں، جس میں پانی کی بچت کے لیے ڈرپ اریگیشن (قطرہ قطرہ آبپاشی) اور موسم کی سختی جھیلنے والے ہائبرڈ بیجوں کا استعمال شامل ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے، اگر اس شعبے کو کلائمیٹ چینج کے اثرات سے نہ بچایا گیا تو ملک کو خوراک کی امپورٹ پر اربوں ڈالر خرچ کرنے پڑیں گے۔ اس لیے قومی سطح پر ایک جامع واٹر مینجمنٹ اور زرعی پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔
