پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کا فروغ اور فری لانسنگ سیکٹر کو درپیش نئے چیلنجز
اسلام آباد: پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ڈیجیٹل معیشت اور فری لانسنگ کے شعبے میں غیر معمولی ترقی دیکھنے کو ملی ہے۔ نوجوان نسل روایتی ملازمتوں کے بجائے آن لائن روزگار کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے ملک میں متبادل ذرائع آمدن پیدا ہو رہے ہیں اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بھی مدد مل رہی ہے۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں انٹرنیٹ کی رفتار میں عدم تسلسل اور بعض تکنیکی رکاوٹوں کے باعث اس ابھرتے ہوئے سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس پر ماہرینِ معاشیات اور آئی ٹی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، پاکستان دنیا بھر میں فری لانسنگ فراہم کرنے والے بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جہاں لاکھوں نوجوان گرافک ڈیزائننگ، ویب ڈیولپمنٹ، مواد نویسی اور سافٹ ویئر انجینئرنگ جیسے شعبوں سے وابستہ ہیں۔ اس شعبے کی بدولت ملک میں ماہانہ لاکھوں ڈالرز کا سرمایہ آتا ہے، جو ملکی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن دوسری جانب، نیٹ ورک کی سست روی اور بین الاقوامی ادائیگیوں کے نظام (پیمنٹ گیٹ ویز) کی عدم دستیابی یا ان میں تعطل کی وجہ سے پاکستانی فری لانسرز کو عالمی مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ کئی بین الاقوامی کلائنٹس نے پاکستانی ڈویلپرز کو پراجیکٹس دینے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے، کیونکہ وقت پر کام کی فراہمی (ڈلیوری) متاثر ہو رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار نہیں کرتی، تو پاکستان اس بڑی ڈیجیٹل مارکیٹ سے محروم ہو سکتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر میں تیز ترین فائیو جی (5G) ٹیکنالوجی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور فری لانسرز کے لیے ٹیکس قوانین کو مزید آسان اور مراعات یافتہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مقامی بینکوں کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مربوط کیا جائے تاکہ رقوم کی منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ اگر ان مسائل کو فوری طور پر حل کر لیا جائے، تو پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ممکن ہے، جو ملکی مالیاتی خسارے کو کم کرنے میں ایک کلیدی محرک ثابت ہو سکتا ہے۔
