کچھی بستی

Advertisements

 کچھی بستی

_ترتیب _

نظام الدین

دو شخص ایک زمین پر کھڑے آپس میں لڑھ رہے تھے ۔ ایک درویش کا وہاں سے گز ہوا لڑنے کی وجہ معلوم کی ایک نے کہا یہ زمین جس پر میں کھڑا ہوں میری ہے دوسرے نے کہا یہ جھوٹ بولتا ہے یہ زمین میری ہے ۔ درویش بولے لڑنے کی ضرورت کیا ہے ابھی زمین سے معلوم کر لیتے ہیں یہ کس کی ہے پھر درویش نے اپنے ہاتھ میں پکھڑی لکڑی کو زمین پر مارا اور کہا بتا تو کس کی ہے زمین کے اندر سے قہقہ بلند ہوا اور آواز آئی یہ دونوں بے وقوف ہی میرے ہیں۔ یہ یہی حال کراچی کا ہے یہاں ہر سیاسی جماعت اور ادارے کراچی کا دعوی تو کرتے ہیں اور اس سے وصول بھی کرتے ہیں لیکن لگانے کا ان میں کوئی رواج نہیں ہے ۔ کراچی کو شاید انتظار ہے کسی درویش کا وہ آکر معلوم کرے کہ کراچی کس کی ہے ؟ آج میں کراچی کے قبضہ گروپ کےبارے کچھ ایسی حقیقت سے آگاہ کرنے جارہا ہو جس کا علم آج کے بچوں کو نہ:؛ # تقسيم برصغیر# کے بعد میرے آبااجداد جس مقام پر آباد ہوئے کراچی کے پرانے باشندے اس مقام کو ٹکری کہا کرتے تے جو شہر کا آخری مقام تھا؛ چھوٹی سی سرسبز پہاڑی؛ جس پر آج قائد اعظم محمد علی جناح کا مقبرہ بناہوا ہے، جہاں بچپن میں ہم برسات کے دنوں میں سرخ رنگ کی مخملی بیر بہوٹی پکڑا کرتے تھے؛ ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کی نسل سے پیدا ہونے والے ہم انکی پہلی نسل کے لوگ اب زندگی کے آخری سفر کے مسافر ہیں ہم شہر کی خوبصورتی سے لیکر اسکی بدصورتی کے چشم دید گواہ بھی ہیں آج کی نسل کو شہر جیسا نظر آتا ہے شہر ایسا نہ تھا ۔ ٹکری کے ایک جانب ہندوؤں کی خوبصورت کوٹھیاں فن تعمير کی اعلئ مثال تھیں اب ان کو ٹھیوں پر بلڈروں نے بلندبالا فلیٹوں والی بھدی عمارتيں کھڑی کردیں ہیں؛ جنوب کی جانب کچھ فاصلے پر جہاں برطانوی افواج کی خوبصورت کپریلون کی بریگین بنی ہوئی تھیں ۔ مہاجریں نے اپنا پہلا پڑھاو اس ٹکری کے اردگرد ڈالا تھا؛ جسے قائدباد کہا جاتا تھا ۔ کراچی کی یہ پہلی کچی بستی تھی؛ بعدازاں” یہاں سے آبادی منتقل کرکے لاندھی کورنگی ملیر شاہ فیصل اور نیو کراچی کی بنیاد رکھی گئی؛ صدر اس دور میں کراچی کا مرکز کہلاتا تھا۔ یہاں سے سولجر بازار، گارڈن، کینٹ اسٹیشن ۔ چاکیواڑہ ۔اور کیماڑی۔ تک ٹرام وے سسٹم چلتا تھا ۔ کیماڑی سے ٹکری تک روڈ کے دونوں اطراف قطار میں درخت لگے ہوتے ٹھے ان درختوں کے اردگرد مختلف مزاہب اور زبان بولنے والوں کے خاندان آباد تھے ، کراچی کا یہ خوبصورت منظر عام دیکھنے کو ملتا تھا۔ اب وہ کلچراور خوبصورتی معدوم ہوچکی ہے، شہر میں انگریزوں نے برسات کے نالے الگ اور سیوریج سسٹم الگ بنایا ہوا تھا سیوریج کے لیئے ٹی پی ون (لیاری ندی) ٹی پی ٹو( محمودآباد) ٹی پی ٹھری (مائی کلاچی) پر تیں سیوریج پلانٹ تھے۔ جبکہ؛ ڈرینیج سسٹم کے زریعے بارش کا پانی سڑکون سے نالوں اور پھر سمندر میں چلاجاتا تھا شہر کا یہ سسٹم برطانوی انجينئر مسٹر شون نے تیار کیا تھا جس کو فلیش سسٹم کہا جاتا ہے؛ یہ فلیش سسٹم شہر کی آبادی کے حساب کے مطابق تیار کیا گیا تھا ۔ اب جب کراچی کی آبادی اس دور سے کہی گنا زیادہ ہوچکی ہے؛ سیوریج اور برسات کے پانی کا دارومدار اسی پرانے سسٹم سے منسلک ہے ۔ بلکہ اس سسٹم پر ناجائز تعمیرات قائم ہو چکی ہیں۔ اور ٹریٹمنٹ پلانٹ مکمل بند ہیں جس کی وجہ سے یہ سیوریج کا پانی برائے راست سمندر میں جاکر سمندر کو آلودہ کررہا ہے جس کی وجہ سے عالمی ماحولياتی ادارے پاکستان سے احتجاج بھی کرتے ہیں!! ملیر کے دریا ٹھاڈو اور سکھن کے زریعے جو برسات کا پانی کورنگی اور ڈیفنس کےدر میان سے گزر کر بحیرہ عرب میں گرتا تھا ان صدیوں سے قائم قدرتی آبی گزر گاہوں پر ڈیفنس اٹھاٹی نے آبادی قائم کردی ہے کسی منصوبہ بندی کے بغیر ؟ برسات کے دنوں کا پانی۔ صنعتوں کا زہریلا اور شہر کے سیوریج کا فضلا زمین کے اندر جزب ہورہا ہے ۔ جس سے زمین سیم تھور ہورہی ہے ۔ زمیں میں خلا پیدا ہورہا ہے جگہ جگہ گندی بدبو پیدا ہورہی ہے شہر کے مکانات کی بنیادیں کمزور ہورہی ہیں ۔ حالیہ برسات کے بعد شہر کی چار بلڈنگوں کا اچانک گرجانا لمحہ فکریہ ہے ؟ کراچی کے ان خراب حالات کی زمیہ داری اٹھانے کے لیے کوئی ادارہ تیار نہیں ہے۔ اگر کراچی کے نقشہ پر نگاہ ڈالیں توبرسات کے راستوں پر (یعنی) ساحلی پٹی ہاکس بے۔سی ویو ۔کلفٹن ڈیفنس کورنگی کریک کے علاوہ ۔ ۔صدر۔ شاہراہ فیصل۔ گلستان جوہر ۔ وغیرہ کی زمین پر انتظامی معاملات سندھ حکومت سے زیادہ وفاق اور کنٹوئمنٹ عمل دخل رکھتے ہیں۔ یہاں سے ٹیکس کون لیتا ہے؟ اخراجات کی زمیہ دار کون ہے؟ یہ صرف وصول کرتے ہیں لگانے کا کوئی رواج انکانہیں؟ بات ہورہی تھی ٹکری کے مقام کی جس کے اردگرد چھوٹی بڑی ٹکریاں اور بھی تھیں (یعنی) پہاڑیوں کا سلسلہ تھا ان پہاڑ یوں پر کیکرکے درختوں کا جھنڈ جنگل کا منظر پیش کرتا تھا۔ تقسيم برصغیر کے بعد ان ٹکریوں کے اردگرد مہاجریں آبادہو گئے ۔ قائد اعظم محمدعلی جناح کے مقبرہ کی تعمیر کے بعد تک ان پہاڑیوں پر جنگل موجود تھا جہاں رنگ برنگی پرندے اوڑان بھرا کرتے تھے ؛ پھر یہاں کچھ جرائم پیشہ افراد نے چرس نوشی اور فروخت کا مستقبل اڈہ قائم کرلیا اور ساتھ ساتھ علاقائی پولیس کو ساتھ ملا کر جھوپڑیاں قائم کرنا شروع کردیں اس طرح یہاں مہاجرین کے نام پر زمین پر قبضہ کا پہلا گروہ قائم ہوا۔ بعدازاں یہ گروہ ٹکری کے اردگرد کی زمین پر قبضہ کرکے کراچی میں قبضہ مافيا کے روپ میں شامنے آیا ۔ یہ جرائم پیشہ گروہ مضبوط ہوتا گیا پھر اس ٹکری پر قائم قائد کے مقبرے سے کچھ فاصلے ایک ایسے مخبوط الحواس پاگل ہندو جس کا نام گھنشام تھا وہاں اس کی قبر بنا کر سبز جنھڈے لگا کر اسے ڈبےشاہ بابا کے نام سے منصوب کردیا اور مزار کی آڑ میں منشيات کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ۔ اس کے ساتھ آہستہ آہستہ چھوٹی سی وہ لحدبڑی قبر میں تبدیل ہو گئی اور قبروں میں اضافہ ہوتا گیا ۔ ان منشيات فروشوں نے یہاں کی زمین پر مکمل قبضہ کرکے جرائم پیشہ افراد کی آماج گاہ بنا دیا۔ یہ گروہ ہر اقتدر میں آنے والی سیاسی جماعت کو چندہ دیتا اور ان کے جرائم پیشہ افراد کو پناہ فراہم کرتا جب کراچی کا ایک ماسٹر پلان تیار کیا جانے لگا تو اس ماسٹر پلان میں کراچی کی سب سے پہلی کچھی بستی (یعنی) لاانزایریا کو بھی شامل کیا گیا ۔ سنہ 1981,, میں حکومت سندھ نے لاانزایریا کی حدبندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں ایک معاہدے کے تحت 200 سو ایکڑ زمین 30کروڈ روپے میں وزارت دفاع سے خدیدی گئی،، جبکہ وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس نے اپنی زمین لاانزایریا کی عوام کے لیے وقف کردی،، زمین کی قیمت لاانزایریا کی عوام نے کچھ اس طرح، ادا کی ،اے،کیٹگریز کے فارم کے سات سو پچاس روپے، ، بی، کے تین سو روپے ، سی، کے ایک ہزار روپے مقرر کیے گئے،، یہ رقم ایلائٹ بینک میں جمع کرا ئی گئی جس کے چالان کی رسید لاانزایریا پروجیکٹ نے ادا کرکے اپنی مدد آپ کے تحت لاانزایریا ری ڈوبلپمٹ پروجیکٹ کی 1687,5ایکڑرقبے کی زمین پر پانچ سالہ منصوبہ کے تحت آبادکاری کے کام کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ،، 14جون سنہ 1982کوتمام امورطےکرنےکے بعدسنہ 1974سے پہلے کے آباد خاندانوں کو A، کیٹگریز کے 17600 خاندانوں کو اپررول کیس قرار دیاگیا ،، جبکہ اسی کیٹگریز کے 12600، پلاٹ لاانزایریا میں موجود تھے پانچ ہزار خاندانوں کو لاانزایریا بورڈ نے 14جون سنہ 1982, ہی میں ، اے، کیٹگریز کے پلاٹ کم ہونے کی وجہ سے لاانزایریا سے باہر آباد کرنا تھا، ، اس سلسلے میں انہیں اختیار دیا گیا کہ وہ چاہیں تو لاانزایریا کی زمین کی قیمت کے برابر گلستان جوہر میں 120،گزکا پلاٹ یاپھر کورنگی میں مناسب جگہ پر،80 ، گز کا مکان تعمیر شدہ , صرف 4500,,,روپے میں حاصل کرلیں اسی طرح ، B کیٹگری کی درخواست فارم کے ساتھ c ، کیٹگری کے لیے 8, ,16,, اور 32،،گذکے پلاٹ کے ساتھ کمرشل پلاٹ بھی شامل تھے ،،،،، آبادکاری ترقیاتی منصوبوں انتظامی اور دیگر اخراجات اپنی مدد آپ کے تحت پودے کیے گے۔ اس طرح سنہ 1982،، سے تاحال ,, تقریباً 1200،سوایکڑرقبہ پر آباد کاری کا کام انجام دیا جاسکا جس میں 2560،فٹ پریڈی اسٹریٹ بھی شامل تھی ۔ لاانزایریا کی زمین پر سب سے زیادہ ناجائز قبضہ اس منشيات فروش گروہ کا تھا ،، جب بھی لاانزایریا پروجيکٹ آبادکاری کا کام شروع کرتا تب یہ عناصر پروجیکٹ کے بدعنوان افسروں کو اپنے ساتھ ملا کر اپنی من مانی کرکے پروجیکٹ چلاتے جس کی وجہ سے لاانزایریا کے مکین اپنی زمین حاصل کرنے لیے پروجیکٹ کے چکر لگاتے رہتے ، جبکہ اس ٹکری کے اردگرد قبضہ کی گئی ناجائز زمین کا کلیم لینڈ مافیا کو گھر بیٹے مل جاتا ہے ۔ جس کی مثال ہائی کورٹ اور نیب میں کرپشن کے الزامات میں کئی پروجیکٹ کے افسران گرفتار ہوچکے ہیں، اور ان جرائم پیشہ لینڈ مافیا کے عناصر نے بھی ہائی کورٹ سے اپنی قبل از وقت گرفتاری ضمانت کرائی ہوئی ہے ۔ اس پروجيکٹ میں کرپشن روکنے کےلیئے مختلف کمیٹیاں بنائی تھیں لیکں اس گروپ کا کام ہی یہ ہوتاہے کہ کسی صورت میں یہ کمیٹیان کبھی فعال نہ ہوں پائیں اور ان کمیٹیوں میں ان کے اپنے افراد تعینات رہیں اس کے لیئے یہ اپنے تمام اثرو رسوخ استعمال کرتے ہیں جبکہ سرکاری طور پر الاانزایریاری ڈیولمینٹ بورڈ!! اور ایگزیکٹو کمیٹی میں !! لاانزایریا ری ڈیولمینٹ بورڈکا چیئرمین۔ (وزیراعلی سندھ) چیف سکیٹری ۔۔( سکیٹری بورڈ) ڈی جی KDA ..(ممبر بورڈ ) ۔MD واٹربورڈ ۔۔(ممبر بورڈ ) چیف انجينئر PWD .. (ممبر بورڈ۔۔) ملیٹری اسٹیٹ آفسر ۔ (ممبر بورڈ) ۔ اسٹيشن کمانڈر ۔(ممبر بورڈ ) اسٹیٹ آفیسر ۔(ممبر بورڈ) پروجيکٹ ڈائریکٹر ۔ (ممبر بورڈ )۔ منتخب MPA .(ممبر بورڈ)؛؛ اسی طرح ایگزیکٹو کمیٹی میں کمشنر کراچی (چیرمین کمیٹی) اور دیگر زمیہ داران ہوتے ہیں۔ ان کمیٹیوں کے بنانے کا مقصد یہ تھا کہ یہان کرپشن نہ ہو وقت مقرر پر پروجيکٹ مکمل ہوسکے اور یہاں کے باشندوں کے ساتھ انصاف ہو ۔ لیکن 82 19 سے تاحال لاانزایریا پروجيکٹ اپنا کام مکمل نہیں کراسکا جس کی وجہ سے یہاں بہت بڑی تعداد میں ناجائز تجاوزات قائم ہو چکی ہیں جس میں پروجيکٹ کے افسران ملوث ہیں اور ان افسران کے خلاف عدالتیں فیصلہ دینے سے قاصر ہیں اس کی مثال راقم کا ایک کیس ہےpos 438 khe17 جو 2017 میں ایک ناجائز زمیں پر قبضے کے خلاف جناب محسب اعلی احمد جمال احجاجی ڈسٹرکٹ ایسٹ کی عدالت میں دائر کیا تھا لیکن دو ہزار بیس تین سال بعد جس کا فیصلہ سنانے کے لیئے معزز جج صاحب نے معزرت کرلی وجہ یہ بتا ئی اٹھارویں ترمیم سے پہلے ہم گورنر کے ماتحت ہوتے تھے اب ہم وزیراعلی کے ماتحت ہیں اس لیئے ہم سندھ کے کسی سرکاری ادارے کے خلاف فیصلہ نہیں سناسکتے تمام ثبوتوں کی موجودگی کے باوجود!! ہے نہ حیران کن بات لیکن حیران ہونے کی بات نہیں ہمارے ملک میں زمین کی حق ملکیت کا قانون 1882 میں برطانوی دوران میں نافز ہوا تھا اس دوران میں انسان کی زندگی میں زمین اور آسمان کا فرق تھا اس دوران میں زہنی طور پر انسان اتنا چالاک وعیار اور حیلہ بانوں سے قانونی مقصد فوت نہيں کرتا تھا زمانے کے لحاظ سے نسبتا زیادہ ایماندار اور دیانتدار ہوتا تھا ۔ ۔جبکہ موجودہ دور میں کسی قانونی استحقاق نہ ہوتے ہوئے بھی لینڈمافیا کے لوگ حق ملکیت کے نرم قوانين کا فائدہ اوٹھا کر آئے دن سرکاری وغیرسرکا ری زمینون پر قبضہ کرلیتے ہیں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لینڈ مافیا کی سرکوبی کے لیے قوانين حق ملکيت املاک کے ایکٹ میں ترميم کرکے موجودہ دور کے مطابق معاشرتی معاشی اور اخلاقی قدروں کو مدنظر رکھتے ہوئے قوانين نافز کیئے جائیں ۔ کیونکہ اس دوران میں بڑی حدتک طبقات امرا سے تعلق رکھنے والے افراد بنانے میں پیش پیش تھے جس میں انکے اپنے مفادات بھی شامل رہے ہونگے ۔ ، ،،،

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں