Advertisements

ادارہ ترقیات کراچی کو تباہی سے بچانے کیلیئے انقلابی فیصلوں کی ضرورت ہے
تجزیہ:سید محبوب احمد چشتی

ادارہ ترقیات کراچی میں ملازمین ، پنشریز شدید پریشانی کا شکار ،آٹھ کروڑ کا شارٹ فال ،سندھ حکومت کی ادارہ ترقیات کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ،غیر مستقل مزاجی سندھ حکومت کی  مالی مفادات سے مزین طرز فکر نے تباہی کے دھانے پرپہونچادیا ،غیر مستقل مزاجی اور شدید کنفیوژ ن کی اس سے بڑی کیا مثال ہوگی کہ تین سال میں کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سات کے قریب ڈائریکٹر تبدیل کردئیے گئے ہیں اس ویژن کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی حثیت ختم کرکے سندھ ڈویلمپنٹ اتھارٹی بنانے کے لئیے یہ بحران پیدا کیا جارہا ہے موجودہ صورتحال میں گوکہ نئے ڈی جی سید ڈاکٹر سیف الرحمان ایک بہتر انتخاب ہیں لیکن اگر ان انکو بھی غیرمستقل مزاجی کی طرزفکر قائم کرتے ہوئے جانے پر مجبور کردیا گیا تو یہ ادارے کے لئیے مزید ظلم ہوگا۔افسوناک امر یہ ہے ادارہ ترقیات کراچی کی تمام یونینز سندھ حکومت کے خلاف صف بندی نہیں کرتی ادارہ ترقیات کراچی کے مفادات کو مقدم جان کر سندھ حکومت کے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی سندھ حکومت کی جانب سے ملنے والی 20کروڑ 40لاکھ کی گرانٹ سے بڑھا کر 30کروڑ کرنے کی سمری ادارہ ترقیات کراچی کی جانب سے بھیجی گئی ہے لیکن اس پر کوئی جواب نہیں دیا جارہا ہے جبکہ کچھ ذرائع کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی کے ذمہ دار حلقوں کی جانب سے سندھ حکومت کو یہ لکھ دیا گیا ہے کہ ایک سال تک ہمیں 20کروڑ کی گرانٹ دی جائے اسکے بعد ہم اپنی ادارے کی ریکوری اپنے ذرائع سے حاصل کرلیں گے حیران کن پہلو یہ ہے سندھ حکومت کے پاس ریونیو دینے والے محکمے تحویل میں ہونے کے باوجود یہ یقین دھانی کیوں کروائی گئی تھی ،ادارہ ترقیات کراچی کے بقایا جات ایک ارب سے زائد ہوچکے ہیں لیکن سندھ حکومت کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آرہا ہے غیرمستقل مزاجی اور مسلسل تبدیلیوں کی بدولت کے ڈی اے تباہی کے دھانے پرپہونچ گیا ہے ادارے کو تباہی سے بچانے کیلیئے انقلابی فیصلوں کی ضرورت ہے ۔۔۔

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں