بتوں کے منہدم ہونے کا وقت آگیا

Advertisements

 (رپورٹ: فرقان فاروقی )
چیف سیکریٹری سندھ نے سیٹوں سے جائز وناجائز طور پر چپکے افسران کو تبادلہ کرنا شروع کر دیا،کئ سالوں سے اہم عہدوں پر براجمان بت بھی منہدم ہونے لگےبلدیہ شرقی میں بالاآخر میونسپل کمشنر کی تبدیلی ہوگئ تین سال تک سوائے فروری 2018 کے ایک مہینے کے اختر شیخ بلدیہ شرقی میں تعینات رہنے کے بعد ہٹا دئیے گئےفروری 2018 میں صرف ایک مہینے تک وسیم مصطفی سومرو بلدیہ شرقی میں میونسپل کمشنر تعینات رہےایک ماہ بعد اختر علی شیخ نے دوبارہ اس عہدے کا چارج سنبھال لیامتعدد بار ان کے ٹرانسفر آرڈر نکالے گئے لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہوسکادلچسپ امر یہ ہے کہ اس مرتبہ ان کے تبادلے کے بعدبطور میونسپل کمشنر ایک مرتبہ پھر وسیم مصطفی سومرو کو بلدیہ شرقی میں تعینات کیا گیا ہےاب دیکھنا یہ ہوگا کہ کہیں یہ تعیناتی بھی عارضی ثابت نہ ہوکیونکہ اختر علی شیخ کے لئے مشہور ہے کہ وہ ڈیلنگ کے ماسٹر ہیں ذرائع یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اختر شیخ کی تبدیلی میں ان کی رضامندی بھی شامل ہےجس کی وجہ تحقیقاتی اداروں کی ان پر بھرپور نگرانی بتائ جا رہی ہےمیونسپل کمشنرز کی پوسٹ پر تعیناتیوں کیلئے شاید سندھ حکومت کو کمی کا سامنا ہےکراچی میں میوزیکل چئیر کی طرح ایک ہی چہروں کو ردوبدل کر کے تعینات کیا جا رہا ہےخاص طور پر تین ضلعی بلدیات غربی ،وسطی اور شرقی میں یہ عمل نمایاں ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ تاحال بلدیہ شرقی میں سابق میونسپل کمشنر اختر علی شیخ ہار ماننے کو تیار نہیں ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ دوبارہ ضلع شرقی میں اپنا تسلط قائم رکھا جائے جمعے کے دن دفتری اوقات کار مکمل ہونے کے بعد بھی میونسپل کمشنر وسیم مصطفی سومرو کے چارج سنبھالنے کے حوالے سے متضاد خبریں زیر گردش رہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ وسیم مصطفی سومروپیر کو بلدیہ شرقی میں اپنی سیٹ پر براجمان ہونگے کیونکہ مذکورہ ضلعے کی اکثریت اس بات کی حامی ہے کہ وسیم مصطفی سومرو کو فی الفور چارج ملنا چاہیئے جس کی اہم وجہ سابق میونسپل کمشنر کا ملازمین کے ساتھ نارواسلوک ہے .

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں