کراچی میں گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے اسباب موجود

Advertisements

 :تحریر : فرقان شکیل فاروقی

کراچی گلوبل وارمنگ کے لحاظ سے شدید متاثرہ شہروں میں سے ایک ہے اس سال کراچی میں اکتوبر کے مہینے تک سورج سوا نیزے پر رہنے کی مثال کو پورا کر رہا ہے اپریل کے مہینے سے پڑنے والی شدید گرمی کچھ کچھ عرصے کے بعد ہونے والی تیز برسات کے باوجود کنٹرول میں آنے کو تیار نہیں دکھائ دی جو یہ ظاہر کر رہی ہے کہ شہر میں قدرتی وسائل یعنی درختوں کی انتہائ کمی ہے جو شہر کے موسم کو ہر گزرتے دن کے ساتھ گرم تر کرتی جارہی ہے گلوبل وارمنگ کے شکار شہروں میں گرین ہاؤسز کو فروغ دیکر کسی حد تک موسمی تبدیلیوں پر قابو پایا جارہا ہے کراچی میں پہلا بڑا اقدام بلدیہ عظمی کراچی کی جانب سے ہو رہا ہے جس کا دائرہ کار وسیع کیا گیا تو کراچی بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے باہر آجائیگا اس سلسلے میں بلدیہ عظمی کراچی کے میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمن کافی فعال کردار ادا کرتے دکھائ دئیے کڈنی ہل پارک (احمدعلی) پارک میں مصنوعی جنگل تعمیر کیا جارہا ہے جو کہ تقریبا 60 فیصد مکمل ہوچکا ہے 64 ایکڑ رقبے کے وسیع علاقے میں مصنوعی جنگل کا تصور قابل تقلید عمل ہے جسے اب ٹہرنے کے بجائے مزید وسعت اختیار کرنا چاہیئے سفاری پارک کو اب اپنے نام کی مطابقت کے لحاظ سے شکل دینا انتہائ ضروری ہو چکا ہے کڈنی ہل پارک کی تعمیر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سفاری پارک کو بھی مصنوعی جنگل بنانا دشوار گزار مرحلہ نہیں ہے کراچی میں موسمیاتی تبدیلیوں کو کنٹرول کرنے کیلئے قدرت نے خود وسائل فراہم کر رکھے ہیں ملیر اور گٹر باغیچہ کی زمین خوش قسمت شہروں کو نصیب ہوتی ہیں اگر انہیں کڈنی ہل پارک کی طرز پر استعمال میں لایا گیا تو کراچی کا موسم دوبارہ معتدل کیا جاسکتا ہے ماضی گواہ ہے کہ ملیر اور گٹر باغیچہ کراچی کے گرین ہاؤسز رہ چکے ہیں جنہیں قابضین نے آج بدترین صورتحال سے دوچار کر دیا ہے ملیر میں آج بھی ہریالی ہے مگر سیوریج وکیمیکلز پر مشتمل پانی کی وجہ سے لوگ جو ایک زمانے میں ملیر کے باغوں کے دلدادہ تھے کنی کترا رہے ہیں یہاں تک ہوا کہ سابق کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے ملیر میں کاشت کی جانے والی سبزیوں کو مضر صحت قرار دیکر پابندی تک لگائ اب اگر دوبارہ ان زمینوں کو ٹریٹیڈ پانی فراہم کر کے ہرا بھرا کیا جائے تو کراچی کی ہریالی کو ضرورت کے مطابق کیا جاسکتا ہے پانی ملیر اور گٹر باغیچہ دونوں میں موجود ہے بس ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں ٹریٹمنٹ پلانٹس لگا کر صحت بخش پانی بنا دیا جائے جبکہ گٹر باغیچہ کی قبضہ شدہ جگہوں کو واگزار کروایا جائے کیونکہ یہ شہر کی ہریالی کا قیمتی اثاثہ ہے اور ہزاروں ایکڑ پر مشتمل ہے اب وقت ہریالی کیلئے کچھ کر گزرنے کا ہے ورنہ شہر میں ہرسال بڑھتی گرمی کو شہری برداشت نہیں کرپارہے ہیں جبکہ گزشتہ سال ایک انٹرنیشنل رپورٹ میں یہاں تک کہہ دیا گیا تھا کہ کراچی تیزی سے رہائش کے اعتبار سے دور ہوتی جارہی ہے سندھ حکومت اور بلدیہ عظمی کراچی نےباہمی اشتراک عمل سے کڈنی ہل پارک کی طرز پر کام کئے تو بہت جلد کراچی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بداثرات دم توڑ دیں گے.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں