کراچی میں قابلیت تعصب کا شکار

Advertisements

“کراچی میں قابلیت تعصب کا شکار”

تحریر:فرقان فاروقی

سندھ حکومت کی جانب سے کراچی سمیت شہری علاقوں کے ساتھ نا انصافیوں کا ایک اور کارنامہ سب کے سامنے ہے، کراچی صوبہ سندھ کا 50 فیصد سے زائد حصہ ہے لیکن سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں 151 کامیاب امیدواروں میں کراچی کا کوئ حصہ نہیں ہے ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ جس شہر میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے لوگ بستے ہوں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر سکے پاکستان کے نامور پروفیسرز جو کراچی کے تعلیمی اداروں سے وابستہ ہیں اس قدر نالائق تو نہیں ہوئے کہ کراچی سے ایسے طالب علم پیدا نہ کرسکیں جو پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر سکیں یہ مختصر مثالیں پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کراچی ہر طرح سے زوال پذیری کی جانب گامزن کر دیا گیا ہے جس پر آواز بلند کرنے کے بجائے اپنا اپنا حصہ لو اور خاموشی اختیار کر لو کی پالیسی اختیار کر لی گئ ہے جس طرح کراچی میں مقامی پولیس یا مقامی لوگوں کے لئے ملازمتوں کے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں بہت جلد کراچی کے لوگ کسی وفاقی یا صوبائ ادارے میں دکھائ نہیں دیں گے سندھ حکومت نے کراچی کو ہر لحاظ سے لاک ڈاؤن کر دیا ہے اب بھی سیاسی، سماجی ذمہ داریاں ادا نہیں کی گئیں تو بہت جلد کراچی کے رہنے والوں کو اپنی زمینیں بیچ کر نقل مکانی پر مجبور کر دیا جائے گا اور جب پیٹھ پر کوئ موجود ہی نہیں ہو تو سر زمین کو چھوڑنا ہی مناسب ہوتا ہے اور اسی حکمت عملی کو سامنے رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ سندھ کے سرکاری ادارے کراچی کے بسنے والوں سے خالی کروائے جا رہے ہیں اور ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ ایک مرتبہ پھر کوئ محمد بن قاسم آئے اور راجہ داہر کو ملیا میٹ کر دے.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں