کورونا وائرس: بھارت میں انتہاپسندوں نے مسلمانوں کو راشن دینے سے ہی انکارکردیا، افسوس ناک خبر آگئی

بھارتی مسلمان
بھارت میں انتہاپسند دکانداروں نے مسلمانوں کوکورونا وائرس کی وبا کا ذمہ دارقراردے کرراشن دینے سے انکارکردیا جبکہ ریاست تلنگانہ میں مسلمان خاندان نے ہندودھرم کا نعرہ کے بدلے کھانا لینے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی مسلمان کورونا کی وبا کے دوران بھی ہندوانتہاپسندوں کے نشانے پر ہے اور غریب مسلمان راشن سے بھی محروم ہوگئے ہیں ، بھارتی ریاست بہارمیں ہندودکانداروں نے مسلمانوں کوکورونا کا ذمہ دارقراردے کرراشن دینے سے انکارکردیا، جس کے بعد مسلمان خواتین،مرد اوربچے کھانے کے لئے دردربھٹکنے پرمجبور ہیں۔

دوسری جانب بھارتی ریاست تلنگانا میں بھوک کے باوجود مسلمان خاندان نے جے شری رام کے نعرے کے بدلے کھانا لینے سے انکارکردیا۔

خیال رہے مسلمان دشمن مودی سرکارنے ریاستی پالیسی کے تحت تبلیغی جماعت کوکورونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دارقراردیا تھا اور بی جے پی کے انتہا پسند وزیروں کی اشتعال انگیز تقریروں کے بعد مسلمانوں پرحملوں اورسماجی اورمعاشی بائیکاٹ میں شدت آئی ہے۔

یاد رہے امریکی خبرایجنسی کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں کوکورونا وائرس کے پھیلاؤ کے الزامات کا سامنا ہے، اس امتیازی سلوک کے باعث مسلمان کورونا کا آ سان شکار بن سکتے ہیں۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مودی سرکارکورونا وائرس پھیلنے کا الزام تبلیغی جماعت کے اجتماع پرلگا رہی ہے، ان الزامات کے بعد مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز تقریروں، تشدد، مسلمانوں کے سماجی اور کاروباری بائیکاٹ میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنماؤں نے بھارتی میڈیا پرتبلیغی جماعت کے حوالے سے کورونا دہشت گردی کی اصطلاح استعمال کی۔

واضح ریے بھارتی مصنفہ ارون دتی رائے نے انکشاف کیا تھا کہ بھارتی حکومت کرونا وائرس کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسندوں کے جزبات کو بھڑکا رہی ہے تاکہ مسلم نسل کشی شروع ہو۔

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet