ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کراچی کی ترجیحات کیا ہونی چاہیئں؟

ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کراچی کی ترجیحات کیا ہونی چاہیئں؟

محمد فرحان ادریسی

کراچی گھمبیر مسائل میں گھرا ایسا شہر ہے جسے حل کرنے کیلئے غیر مرئی قوتوں کی ضرورت ناگزیر ہوچکی ہے،کراچی کے مسائل کا آغاز اس وقت ہو چکا تھا جب بے ہنگم اور پلاننگ کے بغیر تعمیراتی منصوبے شروع ہوئے ان میں زیادہ تر رہائشی منصوبے تھے جونجی سطح پر سامنے آئے،یہ منصوبےکراچی کی آبادی کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی طرف لے گئے جس کا نقصان یہ ہوا کہ کراچی کے محدود وسائل مزید محدود ہوگئے کراچی کا کچرا سن 2000 سے تاحال پچاس فیصد بڑھ چکا ہے سیوریج، پانی کی لائینوں پر اسی لحاظ سے بوجھ بڑھ چکا ہے رہائشی منصوبوں پر مشتمل آبادیاں اپنے منصوبوں کے اندر سے کچرا اٹھا لیتے ہیں لیکن وہ کچرا، کچرا کنڈیوں تک پہنچتا ہے جہاں سے کچرا لینڈ فل سائیٹس تک پہنچانا سرکاری ادارے سرانجام دیتے ہیں، اس اضافی بوجھ کی وجہ سے آج بھی کراچی سے مکمل طور پر کچرا نہیں اٹھ پاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کراچی، کچرابم بناہوا ہے، پانی و سیوریج کی لائنیں اضافی بوجھ برداشت نہ کرنے کی وجہ سے آئے دن رستی رہتی ہیں کیونکہ ان پر گنجائش سے کہیں زیادہ بوجھ ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ کراچی کے پڑھے لکھی عوام کو بھی آج تک سیوریج اور برساتی نالے کا فرق معلوم نہیں کیونکہ یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ برساتی نالے اور سیوریج نالے کیا ہوتے ہیں، انفراسٹرکچر ایسا ترتیب پاچکا ہے کہ کراچی میں برساتی اور سیوریج نالے یکجائی ہوچکے ہیں، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نالہ صفائی میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا لیکن اس کے سیوریج کنکشنز نالوں میں واضح طور پر موجود ہیں لہذا نالوں کو برساتی نالہ نہ ہی کہا جائے تو بہتر ہوگا،نالوں میں سب سے خطرناک رحجان یہ ہے کہ بیش تر نالوں میں سے سوئی گیس، بجلی کے انڈر لائین کنکشنز گزرنے کے ساتھ ہم جس کا نصف ایمان صفائی ہے پانی کی لائنیں بھی نالوں میں اتار چکے ہیں، نالے تارکین وطن کی وجہ سے کچرا بُرد کرنے کے بھی مرکز بن چکے ہیں شہری بھی لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نالوں میں کچرا ڈالنے سے گریز نہیں کرتے نتیجہ سب کے سامنے ہے نالے تجاوزات، ناجائز تعمیرات ومذکورہ سرگرمیوں کا مرکز بن چکے ہیں برسات ہوتی ہے تو ان ہی وجوہات کی وجہ سے پانی سمو کر آگے بڑھانے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے نالے علاقوں کو ڈبو دیتے ہیں جس سے ہر سال برسات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اور یہ ہی حال کراچی سے مکمل طور پر کچرا نہ اٹھائے جانے اور سیوریج کی غلاظت کی وجہ سے بھی ہورہا ہے ان تین بڑی وجوہات کی وجہ سے کراچی کے شہری ایک کے بعد ایک وائرس کی موجودگی کی وجہ سے گُھٹ گُھٹ کر مر رہے ہیں اور بدنام کورونا ہورہا ہے جبکہ کراچی میں بقول شاعر “موت تو بلاوجہ بدنام ہے صاحب”
اسباب موت کو بھی قصور وار ٹہرائیے”،کراچی کے بے تحاشا مسائل میں مذکورہ تین مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کراچی مرتضی وہاب حل کروانے میں کامیاب ہوگئے تو کراچی دوبارہ اپنے پلیٹ فارم پر آنا شروع ہوجائے گا، پہلا مسئلہ کراچی میں پیدا ہونے والے کچرے کی مکمل طور پر لینڈ فل سائیٹس تک منتقلی ہے، کراچی میں روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کی مقدار 15 ہزار ٹن کے لگ بھگ ہے لیکن دلچسپ حقائق یہ ہیں کہ یہ کچرا 19 خودمختار ادارے اٹھاتے ہیں، شہری حکومت کے ‘کراچی ترقیاتی حکمت عملی منصوبہ 2020’ کے مطابق کراچی شہر کے کُل رقبے کا 48.5فیصد علاقہ سندھ حکومت، 12.3 فیصد وفاقی اداروں، 32.7 فیصد شہری یا بلدیاتی حکومت جبکہ 6.5 فیصد رقبہ صنعتی زونز اور تعلیمی اداروں کے زیر انتظام ہے،کراچی میں وفاقی حکومت کے زیر انتظام اداروں میں سے چھ چھاؤنیاں بشمول کلفٹن، فیصل، کراچی، ملیر، کورنگی اور منوڑہ کنٹوئمنٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ائیر فورس مسرور ائیر بیس، پاکستان ائیر فورس فیصل ائیربیس سمیت دو ملٹری ائیر پورٹس، کراچی پورٹ اور بن قاسم پورٹ سمیت دو بندرگاہیں، سول ایوی ایشن، بحریہ ٹاؤن، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی یعنی ڈی ایچ اے، ریلوے، رینجرز، کوسٹ گارڈ، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی، پاکستان نیوی، ائیرفورس، قومی شاہراہ یعنی نیشنل ہائی وے، سپر ہائی وے، شہر کی بڑی سرکاری جامعات، سائٹ، کورنگی انڈسٹریل ایریا سمیت شہر کے پانج بڑے صعنتی زون کا مکمل انتظامی کنٹرول وفاق کے پاس ہے، ایسے میں کچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کیلئے مربوط حکمت عملی بھی کارگر ثابت نہیں ہوسکتی، سندھ حکومت کے زیر انتظام سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ جتنی کوشش کرلے جب تک اسے پورے کراچی سے کچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا اختیار نہیں ملے گا یہ مسئلہ حل ہونا مشکل ہے، بیرسٹر مرتضی وہاب کو ایک چھتری تلے اس مسئلے کو حل کروانے کیلئے سر توڑ کوششیں کرنی پڑیں گی یہ معاملہ ایک چھتری تلے لانے میں وہ کامیاب ہوجائیں تو کراچی کا کچرا اڑن چھو ہوجائے گا اس کا سب سے آسان حل کچرے کی ری سائیکلنگ اور بجلی پیدا کرنا ہے اگر اس سلسلے میں معاہدے کر کے کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جائے تو یہ مسئلہ پائیدار بنیاد پر حل ہوسکتا ہے کیونکہ جو بھی کمپنی کچرے کی ری سائیکنگ یا بجلی بنانے کا معاہدہ کرے گی وہ کچرے کے عوض معاوضہ دینے کو بھی تیار ہوگی،اس بنیاد پر کراچی کے 19 خودمختار کچرا اٹھانے پر معمور ادارے ایک چھتری تلے آسکتے ہیں، دوسرا مسئلہ پانی اور سیوریج کے مسائل کا ہے کیونکہ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب حکومت سندھ کے اہم نمائندے ہیں لہذا وہ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے سابق مئیر کراچی وسیم اختر پر یہ لفظ سُوٹ کرتا تھا کیونکہ حکومت سندھ ان کی سیاسی پارٹی کی نہیں تھی لیکن مرتضی وہاب کیلئے یہ کہنا ان کی جان نہیں چھڑوا سکتا،انہیں پانی اور سیوریج کے مسائل حل کروانے پڑیں گے اور ان مسائل کے حل کیلئے بھی انہیں زمینی حدود جیسی مشکلات کا سامنا ایک چھتری تلے لاکر حل کروانا پڑے گا،تیسرا بڑا مسئلہ بلدیہ عظمی کراچی اور ضلعی بلدیات کے دائرہ کار میں آتا ہے اور وہ مسئلہ نالوں کی صفائ اور اسے اسٹریم لائین کرنے کا ہے، تجاوزات اور ناجائز تعمیرات نے نالوں کی صفائ میں بریک لگا دیا ہے ایک جانب نالہ صاف ہو جاتا ہے تو آگے جاکر مذکورہ مسئلہ نالوں کو صاف نہیں ہونے دیتا جبکہ سن 1990 کی دہائ تک کراچی میں یہ ہی نالے موجود تھے جو تہہ تک صاف ہوتے تھے،شہر کے نالے بکتے رہے اور سب خاموش تماشائ بنے رہے لہذا قصور وار کسی ایک کو ٹہرانا زیادتی ہوگی سیاسی اور سرکاری افرادی مشینری نے کراچی کے نالوں کو تماشہ بنا کر رکھ دیا آج نوے کی دہائ میں تہہ تک صاف ہونے والے نالے لبالب بھرے رہتے ہیں جب مون سون سیزن آتا ہے تو نالوں کے چوکنگ پوائنٹس کو کلئیر کرنے کی حکمت عملی اپنا کر برساتوں کو گزار لیا جاتا ہے لیکن حالیہ سندھ حکومت نے اس جانب سنجیدگی سے توجہ دی ہے تو صورتحال کافی بہتر ہورہی ہے نئے نالے بھی تعمیر ہورہے ہیں اور نالوں سے تجاوزات اور ناجائز تعمیرات کا بھی خاتمہ ہورہا ہے، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کراچی کے پاس ایک اچھا موقع ہے کہ وہ کراچی کے نالوں کی مکمل صفائ کو یقینی بنوادیں کیونکہ عدلیہ بھی اس معاملے میں ان کے ساتھ کھڑی ہوسکتی ہے کیونکہ عدلیہ کے بار بار احکامات کے بعد نالوں سے تجاوزات وناجائز تعمیرات کا خاتمہ ممکن بنایا گیا ہے اس سلسلے کو جاری رکھا گیا تو سیاسی نقصان ضرور ہوسکتا ہے لیکن کراچی میں نالوں کا نیٹ ورک درست سمت میں گامزن ہو جائے گا اور سو ملی میٹر کی برسات کے بعد بھی انہیں جگہ جگہ جاکر نکاسی آب کے کام سر انجام دلوانے کی زحمت ختم ہوجائےگی،مذکورہ تین مسائل حل کروانے میں ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کراچی مرتضی وہاب کامیاب ہوگئے تو بقایا مسائل مرحلہ وار حل ہونا شروع ہو جائیں گے کیونکہ کراچی کا انفراسٹرکچر خراب کرنے میں جہاں عمارتی جنگل کا کردار ہے وہیں یہ تین مسائل سڑکوں، گلی، محلوں کا زمینی انفراسٹرکچر کھا گئے ہیں، سڑک یا کوئ بھی ترقیاتی کام اسوقت قائم ودائم رہے گا جب کچرا، سیوریج اور نالوں کی گندگی اسے نقصان نہ پہنچائے یہ تینوں مسائل اس حد تک خطرناک ہیں کہ یہ کسی بھی انفراسٹرکچر کو ہضم کر جاتے ہیں اور لکیریں پیٹنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب سے گزارش ہے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر ان تین مسائل پر توجہ دیں تو کراچی کو مسائل کے جنگل سے نکالنا آسان ہوجائے گا بصورت دیگر لیپا پوتی چلتی رہے گی لیکن اندر سے کھوکھلا پن کم ہونے کے بجائے بڑھے گا، سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی کو بھی کراچی کے شہریوں کو اپنی جانب راغب کرنا ہے تو اسے یہ تین کام ترجیحی بنیادوں پر کرنے ہی پڑیں گے.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں