خنجر گھونپنے سے بہتر ہے خاموش رہیں

خنجر گھونپنے سے بہتر ہے خاموش رہیں

محمد فرحان ادریسی

قیام پاکستان کے بعد سے پاکستان کو پنپتا دیکھ کر بیرونی قوتوں نے قیام کے بعد سے تاحال یہ سازش کی کہ اس ملک کو کسی صورت نہ پنپنے دیا جائے جس کی سب سے اہم وجہ اس ملک کے قیام کی وجوہات ہیں ملک دشمن عناصر کو یہ کسی صورت گوارہ نہیں کہ یہ ملک کسی بھی لحاظ سے ترقی کرےاس کیلئے آج تک فرقہ واریت اور لسانیت کا حربہ استعمال کیا جارہا ہے، اب اس میں عسکری اداروں کو بدنام کرنا بھی شامل ہوچکا ہے،یہ وہ خطرناک حربہ ہے جو کھلی جنگ ہے جس کے خطرات سے ناآشنا لوگ اس کا حصہ بن کر پاکستان کی سالمیت پر خنجر گھونپ رہے ہیں سوشل میڈیا نے جہاں ہر ایک انگلی کو صحافی، تجزیہ نگار اور نہ جانے کیا کیا بنادیا ہے وہیں ان انگلیوں میں وہ ملک دشمن عناصربھی شامل ہوچکے ہیں جن کا مشغلہ اور منصوبہ عسکری اداروں کو حرف تنقید بنانا ہے یہ ایسی غیر محسوس جنگ ہے جس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں تحریری مواد پر بلا تصدیق یقین کرنے والوں کی وجہ سے یہ دائرہ کار وسیع ہوتا جارہا ہے سوشل میڈیا نے جہاں آگاہی کے دروازے کھولے ہیں وہیں مدفون وہ قوتیں بھی سامنے آگئیں جن کو عسکری اداروں پر تنقید کرنے کے علاوہ کچھ اور کام نہیں ہے اور مقرر کئے گئے یہ ڈائنامائیٹس پاکستانیوں کے ذہنوں کو خراب کرنے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں، یہ چیدہ چیدہ واقعات کو ہولناکی کا روپ دیکر پاکستانیوں کو اپنی ہی عسکری اداروں کے خلاف کرنے کیلئے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں غلطیوں، کوتاہیوں سے کوئ ادارہ مبرا نہیں ہے لیکن اس کی اصلاح کیلئےطریقہ کار ہوتا ہےخاص طور پر عسکری اداروں کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنانے والے یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس قوم کو کس طرح گمراہ کرنا ہے جبکہ باشعور لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر کوئ منفی پہلو ہے بھی ہے تو اسے انگلیوں کی جنبش کے بجائے کس طرح دور کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہے جس سے اصلاح بھی ہو جائے اور کسی قسم کا تذلیلی عمل بھی نہ ہو لیکن ذرائع ابلاغ سمیت سوشل میڈیا کی آزاد حیثیت نے اس عمل کو مجروح کر کے رکھ دیا ہے، پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے اپنی ہی عسکری اداروں پر طنز وتنقید کے تیر برسا دئیے جاتے ہیں جو ملک دشمن عناصر کی توپ بن جاتے ہیں جس کا جواب دینے کیلئے ان قلمکاروں کو میدان میں آنا پڑتا ہے جو اس ملک کی شان کو کبھی بھی پیروں تلے روندنے کے خلاف ہیں
ایسا کیوں ہورہا ہے؟
جب عسکری اداروں کی جانب ملک دشمن قوتوں کو ہر جانب سے پسپائ حاصل ہوئ تو ان کی جانب سے تینوں حربے ایک ساتھ استعمال کئے جارہے ہیں تاکہ پاکستان کو خطرات ہی لاحق رہیں، فرقہ واریت اور لسانیت کی جڑیں اسقدر مضبوط کر دی گئ ہیں کہ پاکستان میں سندھی، مہاجر، پنجابی، سرائیکی، ہندکو، پشتون، بلوچ ودیگر قومیتوں سمیت سنی، شیعہ، دیوبندی، اہل حدیث، بریلوی تلاش کرنا بہت آسان ہے لیکن نہ تو پاکستانی دستیاب ہے اور نہ ہی مسلمان، افواج پاکستان موجود ہے جس کا وجود پاکستان کے وجود کے ساتھ روح اور جان جیسا ہے لیکن پاکستانیوں کی کمی کی وجہ سے روح اور جان چھلنی ہیں،ملک دشمنوں کی وجہ سے افواج پاکستان سے نفرت کو بڑھاوا دیا جارہاہے جس کو نچلے درجے سے اعلی درجے تک محظوظ ہونے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ یہ خطرناک عمل ہے جس سے کنارہ کشی ضروری ہے لیکن پاکستانیوں کی اب بھی بڑی تعداد میں موجودگی کی وجہ سے یہ جنگ بھی ناکام ہو رہی ہے دراصل کھیل سجانے میں مواقع میسر کرنے میں بھی ہمارا ہی ہاتھ ہے ہم ہی ان کے کارندے بن گئے لسانی تقسیم کا اصل ذمہ دار ہم خود ہیں زیادتیوں کی وجہ سے لسانی تقسیم اور باہمی نفرتیں پروان چڑھیں مسلمان کے بجائے فرقہ واریت میں پڑ گئے ہر پاکستانی سے درخواست ہے کہ کبھی مکمل تنہائ میں سوچیں کہ جب پاکستان بنا تھا تو کیا ہم لسانی اور فرقہ ورانہ اکائیوں پر مشتمل تھے بالکل ایسا نہیں تھا سوچ ایک تھی نظریہ ایک تھا دکھ وخوشیاں سانجھی تھیں پھر پچاس کی دہائ کے بعد سے جو لسانی اور فرقہ ورانہ تقسیم شروع ہوئ تو وہ آج چلتا پھرتا بم بن چکی ہے پاکستان ٹوٹ کر بنگلہ دیش میں تقسیم ہو چکا ہےپھر بھی ہم یہ سمجھنے کو تیار نہیں ہیں کہ دراصل ہم خود اپنے دشمن بنے ہوئے ہیں سوچوں کا محور پاکستان ہونے کے بجائے کچھ اور ہی ہے لیکن کم ازکم اس سے عسکری اداروں کو دور رکھنا چاہیئے دنیا کی ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ مخلص افواج کیخلاف جب بھی کوئ قوم کھڑی ہوئ وہ گوشہ نشین ہوگئ مغل، سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے پیچھے غداروں کی کہانیاں تاریخ کا حصہ ہیں ان واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ جس ملک کی سالمیت کا انحصار جن قوتوں پر ہے اس کیخلاف کسی طور بھی استعمال نہ ہوں خنجر گھوپنے سے بہتر ہے خاموش رہ کر اپنا کردار ادا کریں اور ان قوتوں کو چاہیئے کہ کوئ ایسی چیز پروان چڑھانے کا سدباب کریں جو ملک کیلئے زہر قاتل ہیں، لیکن ایک بات ہر ایک کو سمجھ میں آجانا ازحد ضروری ہے کہ یہ ملک “اللّہ اور نبی کریم صلّی اللّہ علیہ وسلّم کی دین ہے ہمیں ناشکری نہیں کرنی ہے دراصل یہ بات برحق ہے کہ اصل حاکم اللّہ ہے “اس کے بعد بات بالکل واضح ہے کہ جب پاکستان پر خاص نظر کرم ہے تو جو اسے نقصان پہنچانے کا موجب بنے گا وہ اپنا انجام اسی دنیا میں دیکھ لے گا، ماضی کھنگال کا دیکھ لیں کیا ایسا نہیں ہوا ہے؟ لہذا اصلاح ضرور کریں لیکن دانستہ یا نادانستہ طور پر پاکستان کی سالمیت کے لئے خطرہ نہ بنیں کیونکہ خنجر گھونپنے سے بہتر ہے کہ خاموش رہا جائے.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں