کورونا وائرس مخصوص لابی کی ناپاک سازش. رپورٹ:فرقان فاروقی

Advertisements

کورونا وائرس مخصوص لابی کی ناپاک سازش

ایک مخصوص لابی کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے کیلئے بحثیت مسلم اور قوم کے یکجا ہونے کی ضرورت اہمیت اختیار کر گئ ہے، کورونا وائرس چین کے شہر ووہان سے ہوتا ہوا پوری دنیا میں دہشت کی علامت بن چکا ہے لیکن اس کا پاکستان میں اچانک داخل ہو جانا کئ سوالات کو بھی جنم دے رہا ہے، میرے نزدیک کورونا وائرس ایک مخصوص لابی کی سازش ہے جوکہ دنیا کی آبادی کو کم کرنے کا ایک منصوبہ ہے سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک گیس وائرس  تیار کر کے پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلا دی گئ، 18 فروری 2020 کراچی کیماڑی کے علاقے سے اٹھنے والی گیس معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی واقعہ تھا جو دو درجن سے زائد افراد کو لقمہ اجل بنا گیا کہیں یہ ہی گیس کورونا کا موجب تو نہیں تھی؟؟ کورونا پر فوکس کیا جائے تو اس کا اتنی جلدی پھیل جانا پوری دنیا کےمیڈیا کے ہر ذرائع پر مقبولیت حاصل کرنا اور سب توجہ ہٹا کر صرف کورونا، کورونا لگتا ایسا ہی ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی اور باضابطہ سازش ہے دنیا بھر میں معاشی زندگی مفلوج ہو چکی ہے معیشت ہر گزرتے دن کے ساتھ گرتی جارہی ہے ایک مخصوص طبقہ جس کی تعداد دنیا میں کروڑوں ہے جو روزی روٹی کیلئے روزانہ کام کرتے ہیں تو اپنا پیٹ پالتے ہیں زبوں حالی کا شکار ہو چکے ہیں اور لاک ڈاؤن کی یہ ہی صورتحال پاکستان سمیت دنیا میں برقرار رہتی ہے تو آئندہ ایک ماہ میں کورونا وائرس کے بجائے لوگ بھوک کی وجہ سے مرنا شروع ہو جائیں گے جو لاکھوں میں ہوسکتی ہے دوسری جانب غور کیا جائے تو کورونا لوگوں کے ذہنوں پر اس قدر سوار کر دیا گیا ہے کہ وہ ہر معمولی بیماری سے خوفزدہ ہو رہے ہیں کہ کہیں انہیں کورونا تونہیں ہوگیا؟ یعنی لوگوں کو ذہنی مفلوج کر دیا گیا ہے جو علیحدہ جان لینے کے ساتھ ذہنی مفلوجیت کا سبب بن سکتا ہے تیسرا لاک ڈاؤن سے ایک جگہ لوگوں کو رکھنے کا مقصد صرف کورونا روکنا نہیں ہے بلکہ نفسیاتی ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کام کرنے والے افراد بہت زیادہ ایک ہفتے تک گھروں تک محدود کئے جاسکتے ہیں جب وقت تجاوز کرتا ہے تو وہ منفی سرگرمیوں میں ملوث ہونا شروع ہو جاتے ہیں یعنی ان کا ذہن انتشاری بھی ہوسکتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھروں، محلوں میں لڑائیاں شروع ہوسکتی ہیں جو علیحدہ خطرناک وائرس ہے اور کئ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پرکورونا وائرس کو ایک سازش ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور بظاہر اس کے تانے بانے یہودیوں سے ملتے جلتے دکھائ دیتے ہیں شایدمسلم ممالک میں کورونا اس تیز رفتاری سے پنپ نہیں پایا ہے جس کی توقع کی جا رہی تھی جس کی سب سے اہم وجہ مسلمانوں کو عطا کردہ طہارت کا طریقہ کار ہے جس کو اختیار کرنے کا طریقہ ہمارے پیارے نبی بتا چکے ہیں دوسری بات یہ ہے کہ بتایا جا چکاہے کہ کلونجی موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے تو اسے مسلسل اختیار کر لیا جائے تو کورونا وائرس کے جیسے اور بھی وائرسز سامنے آجائیں تو ان سے نمٹا جاسکتا ہے صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایمان کی حلاوت کو اپنے اندر جذب کریں تو ہمارا رب بڑا غفورورحیم ہے.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں