لکھنے اور پڑھنے کا ملن

Advertisements

( لکھنے اور پڑھنے کا ملن )

(ترتیب)

( نظام الدین)

خدا نے انسان کی زندگی میں ناخوشگوار کے ساتھ خوشگوار چیزیں بھی رکھی هیں: جیسے پھول کے ساتھ کانٹا صحت کے ساتھ بیماری
زندگی کے ساتھ موت
اس طرح زندگی میں پسندیده کے ساتھ ناپسندیده چیزوں کا ملن رکھا ہے :
اس لیے انسان کے پاس اس کے سوا کوئی چاره نہیں.
که وه اس کے ساتھ نباه کی صو رت پیده کرے ،،
کیو نکه قدرت نے یه دنیا اسی ڈھنگ پر بنائی هے ،
ایک ملن لکھنے کے ساتھ
پڑھنے کا بھی ہے ۔
ایسا ممکن نہیں کوئی شخص لکھنا شروع کردے
اور پڑھے بلکل نہیں ؟
لکھنا ، باالفاظ۔ دیگر فکرو سوچ یا خیالات واحساسات کو بذریعہ قلم، صفحہ قرطاس پر منتقل کرنا انسان کے ارتقائی عمل میں ایک اہم مرحلہ تصور کیا جاتا ہے
یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جس نے دنیا کے ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا۔
یہ ہی وجہ ہے انسان تجسس میں رہتا ہے کہ اس نے کب لکھنا شروع کیا ؟
دنیا میں اب تک 6500 زبانوں میں تحریریں لکھی جاتی ہیں لیکن ماہریں لسانیات اس بات کا تعین نہیں کر سکے کہ کونسی زبان کی تحریر زیادہ قدیم ہے ؟ اگر ہم قدیم تحریر کے بارے میں تحقيق کرتے ہیں تو سنسکرت قدیم مصری یا بابلی زبان کی تحریر کو قدیم تصور کیا جاتا ہے لیکن بنیادی طور پر
یہ موجودہ دورکی جدید زبانوں جیسی ہی ہیں ؛؛
اکثر بہت سے لوگوں کو اردو میں لکھنے کے علم سے متعلق پوچھتے سنا گیا ہے۔
کہ اردو میں:
مضمون کیسے لکھا جاتا ہے؟
کالم نگاری کیسے سیکی جائے؟
لکھنے کے اصول کیا ہیں ؟
دراصل انسانی دماغ میں اس قسم کی اور بہت ساری چیزوں کو سیکھنے کی خواہشات پیدا ہوتی ہیں اور دماغ میں انہیں سیکھنے کا مادہ بھی ہوتاہے ۔
خواہ کوئی چیز کتنی ہی مشکل کیون نہ ہو انسان ا بتدائی مراحل میں اسے سیکھ لینے کی صلاحيت رکھتا ہے۔
کیونکہ سیکھنے کے ابتدائی دوران انسانی دماغ اس چیز میں بہت دلچسپی لیتا ہے پھر کچھ عرصے بعد سیکھنے کی رفتار کم ہونے لگتی ہے
مثال کے طورپر ۔
جب کوئی شخص مطالعہ کے ساتھ تحریر کے عمل کو جاری رکھتا ہے تب اس کا دماغ بھی زیادہ کام کرتاہے۔
یوں سمجھیں کہ دوتغیر پزیر چیزیں ہیں ایک عمودی یعنی وہ مضمون ہے جو ہم سیکھنا چاہتے ہیں اور دوسرا افقی ہے جس سے ہم سیکھتے ہیں۔
( یعنی ) لکھنے اور پڑھنے والے وقت کو دیتے ہیں؛
یہ ایک دماغی سائنس کا الگ سبق ہے ۔
:بہرحال:
کوئی بھی شخص جو لکھنا پڑھنا جانتا ہو، مطالعے ، مشق اور کاوش وکوشش کے ذریعے ، اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کر سکتا ہے، اور اسے نشو ونما دے کر ، اس سے مفید کام لے سکتا ہے۔ کتابیں ، رسائل اور اخبارات مختلف نظریات وخیالات کی تبلیغ واشاعت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔
۔ اگر آپ اپنی بات کو تحریر کا روپ دینے پر قادر ہیں اور آپ کی بات میں وزن ہو گا، دلیل ہو گی تو بہتوں کو متاثر کرے گی، قائل کرے گی، اورا س سے کئی ایک آپ کے ہم آواز اور ہم سفر ہو جائیں
ہم کیسے لکھیں ؟—یہ صرف آپ کا نہیں ، ان سب لوگوں کا مسئلہ ہے، جو لکھتے نہیں۔ اور جو لکھتے ہیں ان کے لیے لکھنا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ اگر آپ بھی لکھنا شروع کر دیں تو یہ آپ کے لیے کوئی مسئلہ
نہیں رہے گا۔
لکھنا آپ کے لیے ویسا ہی روز مرہ یا روٹین کا عمل ہوگا، جیسے آپ روزانہ گھر سے نکل کر سکول یا کالج جاتے ہیں یا کپڑے بدلتے ہیں یا حسب ضرورت گفتگو کرتے ہیں۔ اگر آپ لکھنا جان جائیں ، اور آپ کے اندر یہ اعتماد پیدا ہو جائے کہ میں جو چاہوں ، جب چاہوں اور جس طرح چاہوں، لکھ سکتا ہوں تو بس یہی مطلوب ہے۔
ہرتعلیم یافتہ شخص کے اندر لکھنے کی صلاحيت موجود ہوتی ہے۔یہ صلاحیت یقینا آپ کے اندر بھی موجود ہے۔ سب سے پہلے تو آپ کو اپنے اندر ، تحریر کی ضرورت واہمیت کا احساس پیدا کرنا ہے۔ اگر آپ ذہناً اس کی افادیت کے قائل ہو جائیں تو پھر اس عزم کو تازہ کیجیے کہ آپ کو لکھنا سیکھنا ہے، کچھ نہ کچھ لکھنا ہے، اور بذریعہ تحریر اپنی سوچ ، اپنی بات اور اپنا تاثر دوسروں تک پہنچانا ہے۔ مثبت اقدار کی حمایت میں قلم اٹھانا ، اور کسی بھی تحریر ناول ، افسانہ ، ڈراما، شاعری، مضمون ، تنقید، طنزومزاح، حالات حاضرہ پر تبصرہ ، حتیٰ کہ کسی اخباری مراسلے کے ذریعے اپنے مقصد ونصب العین کو قارئین تک پہنچانا ہے۔
اگر آپ کے اندر یہ عزم راسخ ہو جائے کہ مجھے اپنے مثبت اور سچے محسوسات دوسروں تک پہنچانے ہیں تو ہر روز دس مرتبہ آپ کا جی چاہے گا کہ یہاں مجھے اپنی بات کہنی چاہیے، اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔ ہم ایک نا ساز گار ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور حالات ومعاملات کو قدم قدم پر اپنی طبیعت ، اپنے مقاصد اور اپنے اصولوں کے خلاف پاتے ہیں۔ حق وانصاف کا خون ہوتا دیکھتے ہیں۔ بددیانتی اور بے اصولی فروغ پذیر ہے۔ خیرو شر کے درمیان چہارسُو، ایک معرکہ اور ایک کش مکش برپا ہے ۔ ہمارے ایمان کی کسوٹی یہ ہے کہ ہم شر اور باطل کے خلاف کس حد تک آواز بلند کرتے ہیں۔ اس کا ایک ذریعہ ، اور بہت مؤثر ذریعہ یہ ہے کہ ہم بذریعہ تحریر اس کی کوئی بھی صورت ہو، کوئی بھی صنف سخن ہو حق وراستی کی حمایت میں اور باطل کے خلاف آواز بلند کریں۔ کوئی مضمون لکھیں ، یا اخبار کو ایک مختصر مراسلہ ہی بھیج دیں۔ کسی اور صنف نثر میں دسترس ہے تو اسے ذریعۂ اظہار بنائیں، یعنی آپ اپنا ردعمل ضرور ظاہر کریں۔ خبریں سنتے ہوئے یا اخبار پڑھتے ہوئے، یا اسکول کالج،ملازمت یا بازار سے واپسی پر آپ کچھ محسوس کر رہے ہیں اور ذہن میں لاوا پک رہا ہے، قلم پکڑ ئیے ، کاغذ اٹھائیے اور اپنے تاثرات قلم بندکر ڈالیے ۔ اب تو سوشل میڈیا بھی اظہار راے کا اہم ذریعہ ہے۔
جب آپ لکھنا شروع کریں گے اور اگر آپ، لکھنے کی اچھی خاصی مشق نہیں رکھتے تو آپ کو کچھ دقت محسوس ہو گی۔ ممکن ہے، الفاظ ، خیالات کا ساتھ نہ دیں۔ اپنے محسوسات کے مناسب جملے بنانے میں آپ کو مشکل پیش آئے یا آپ اپنی بات کو مؤثر انداز میں اور صحیح ترتیب کے ساتھ پیش کرنے میں کامیاب نہ ہوں— کوئی حرج نہیں ، اہم تو یہ ہے کہ آپ جو کچھ محسوس کرتے ہیں، اسے سوچ ساچ کر، اپنے تئیں بہتر سے بہتر انداز میں مناسب سے مناسب تر الفاظ کے ذریعے کاغذ پر منتقل کر دیں۔یہ عمل وقتاً فوقتاً دہرائیے ۔ رفتہ رفتہ آپ محسوس کریں گے کہ مشکلات کم ہو رہی ہیں اور اب آپ کے لیے ما فی الضمیر کو ادا کرنا آسان تر ہوتا جا رہا ہے۔
درحقیقت مشق ، تحریر کو بہتر اور مؤثر بنانے کا نہایت کار گر اور کامیاب ذریعہ ہے ۔
ادیب، مضمون نویس یا نثر نگار بننے کے لیے مسلسل لکھتے رہنا از بس ضروری ہے۔ بعض معروف اور نامور ادیب بھی مسلسل مشق کے اس عمل سے گزر کر ہی بلند پایہ نثرنویس بنے ہیں، وہ اپنی معمولی تحریروں کو بھی لکھتے ، پھاڑ دیتے ، پھر لکھتے اور پھاڑ دیتے اور اس طرح متعدد کاوشوں کے بعد تحریر کو حتمی شکل دیتے تھے۔ اپنی تحریر کو تنقیدی نظر سے دیکھنا ، جانچنا اور اسے بہتر بنانے کے لیے اس میں ترامیم کرنا خرابی کی نہیں ، خوبی کی بات ہے۔ محنت ومشکلات کا یہ عمل ’خونِ جگر‘ صرف کرنے کے مترادف ہے۔ ادیب، بلکہ ہر فن کار خونِ جگر صرف کر کے اپنی تخلیق کو زیادہ معیاری بنا سکتا ہے۔ مشق اور محنت کے بغیر کوئی انسانی کاوش پختگی اور معیار کی بلندیگی تک نہیں پہنچ سکتا ۔۔

٭ لوازمہ و معلومات : جب آپ کسی خاص موضوع پر کچھ لکھنا چاہیں تو ممکنہ حد تک ، متعلقہ معلومات اور لوازمہ فراہم کر لیں ۔ کتابوں سے ، رسالوں سے اور انسائیکلو پیڈیا سے۔ اسی طرح بزرگوں یا اس شعبے کے ماہرین سے استفسار اور مشورہ بھی کیجیے۔ جس قدر مفصل معلومات فراہم ہوں گی ، آپ کی تحریر اس قدر جامع اور بھر پور ہو گی۔ ناکافی یا غلط معلومات کی بنیاد پر لکھی جانے والی تحریر ناقص ہو گی اور بعض صورتوں میں گمراہ کن بھی۔
٭ سوچ بچار : اپنے ارد گر د پھیلی ہوئی زندگی ، اس کے نشیب وفراز ، اس کے خیرو شراور اس کے وقوعات وحادثات پر غور وفکر کی عادت ڈالیے ۔ کسی صورت حال کے اسباب ، اس سے عہدہ بر آ ہونے کی تدابیر، مسائل حل کرنے کے طریقے اور مختلف مسائل کو سلجھانے کی صورتیں ،
ان پہلوئوں کے بارے میں آپ جس قدر سوچ بچار سے کام لیں گے اور معاملات کی ماہیت اور تصویر کے دونوں رخ آپ کے زیر غور رہیں گے، آپ کے لیے حقائق تک پہنچنا اور اصلیت کو جان لینا آسان ہو گا اور آپ کے ذہن میں مسائل ومعاملات کو سلجھانے کی صلاحیت پیدا ہو گی ۔ اس طرح آپ کی تحریر تفکرو تدبر کی حامل اور قارئین کے لیے کہیں زیادہ افادیت کا باعث ہو گی۔
٭ ابتدائی خاکہ اور ترتیب :
آپ جو کچھ لکھنا چاہیں اور موضوع کاا نتخاب کر لیں موضوع کا انتخاب اپنی مخصوص افتادِ صلاحیت کے مطابق کیجیے توتحریر یا مضمون کا ایک ابتدائی خاکہ بنائیے ۔ آغاز کیسے ہو گا ؟ کیا کیا نکات، کس ترتیب سے پیش کریں گے؟ دلائل ؟موضوع کی مناسبت سے اقوال ، فرمودات ، ضرب الامثال ، اشعار بھی جمع ونوٹ کر لیں اور ان کی ترتیب بھی قائم کر لیں۔ پھر اختتام کیسے ہو گا ؟ خاکے پر باربار غور کیجیے ۔ کیا یہ ترتیب مناسب اور منطقی ہے ؟ اگر نہیں تو اس میں مناسب رد وبدل کر کے خاکے کو زیادہ سلیقے اور ہنر مندی سے مرتب کیجیے۔ جب آپ کو خاصا تجربہ ہوجائےگا تو پھر آپ کو خاکہ بنانے کی ضرورت پیش
نہیں آئے گی۔
لیکن , آج کے دور میں
اخبار سے ریڈیو ۔ٹی وی
آن لائین جرنلزم نے لکھنے کے انداز کو بدل دیا ہے.
جو جازب نگا چہرہ. جو چرب زبان جو زیادہ چیخنے والا ہے اسے کیمرے کے أگے بٹھا دیا گیا
اب جھوٹ سچ طے کیے کرنے کا وقت نہیں,
خبر کے سب کرداروں سے رابطے کا وقت نہيں,
اسٹوری لکھنے اور ایڈٹ کرنے کا ٹائم نہیں بس فورا کسی بھی قیمت پر بریکنگ نیوز پیدا کرو تصدیق تصیح و تردید بعد میں ہوتی رہے گی.
لیکن جنہيں تجربے کار لکھنے والوں کی زبان تبصراتی تکنیک رپورٹنگ کے بنیادی آداب جیسے گر سیکھنے کا موقع اور
تربيتی معاونت میسر رہی ہو وہ لکھنے کے بنیادی پیشہ ورانہ اصولوں اور اخلاقیات پر آج بھی قائم ہیں*

،

:

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں