عالمی سیاست میں بڑی تبدیلیاں مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور پاکستان پر اس کے اثرات
تحریر فرقان فاروقی
جدید دور میں عالمی سیاست (Global Politics) ایک انتہائی حساس اور تیزی سے بدلتے ہوئے دور سے گزر رہی ہے۔ دنیا اب یک قطبی (Unipolar) نظام سے نکل کر کثیر قطبی (Multipolar) نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں طاقت کے مراکز تقسیم ہو رہے ہیں۔ اس تمام تر بدلتی ہوئی صورتحال کا سب سے حساس مرکز خطہٴ مشرقِ وسطیٰ (Middle East) ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی سیاسی، سفارتی اور عسکری تبدیلیاں نہ صرف اس خطے کی تقدیر بدل رہی ہیں، بلکہ ان کے براہِ راست اثرات دنیا کی معیشت اور خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ سیاست پر نظر ڈالی جائے تو سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی، چین کا اس خطے میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور فلسطین کے دیرینہ تنازع کی نئی لہر نے پرانی صف بندیوں کو توڑ دیا ہے۔ ایک طرف جہاں تجارتی راہداریوں (Trade Corridors) کے لیے نئے معاہدے ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف توانائی (Energy Security) کے حصول کی جنگ نے عالمی طاقتوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ چونکہ دنیا کا زیادہ تر خام تیل اور گیس اسی خطے سے سپلائی ہوتا ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والا معمولی سا تناؤ بھی پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان کھڑا کر دیتا ہے۔
پاکستان کے لیے مشرقِ وسطیٰ کی یہ صورتحال انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اسلام آباد کے ان تمام ممالک کے ساتھ گہرے مذہبی، برادرانہ اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ پاکستان پر ان حالات کے اثرات کو تین بڑے زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے:
اول، معاشی اثرات (Economic Impact)۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات، یعنی پٹرول اور گیس کا ایک بہت بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، خاص طور پر سعودی عرب، یو اے ای اور قطر سے درآمد کرتا ہے۔ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں حالات کشیدہ ہوتے ہیں، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، جس کا نتیجہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور پھر ملک گیر مہنگائی کی صورت میں نکلتا ہے۔
دوم، اوورسیز پاکستانیوں کا مستقبل (Remittances)۔ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں برسرِ روزگار ہیں اور ان کا بھیجا ہوا زرِ مبادلہ (Remittances) پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام پاکستان کی معاشی مضبوطی کی ضمانت ہے، جبکہ وہاں کے حالات خراب ہونے سے ہمارے روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔
سوم، سفارتی توازن (Diplomatic Balance)۔ عالمی سیاست کی اس شطرنج پر پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے تزویراتی تعلقات ہیں، تو دوسری طرف پڑوسی ملک ایران کے ساتھ بھی تعلقات کو مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ چین کا خطے میں ثالث کا کردار ادا کرنا پاکستان کے لیے ایک مثبت پہلو ہے، کیونکہ چین پاکستان کا قریبی دوست ہے اور سی پیک (CPEC) کے ذریعے پاکستان خود کو مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک تجارتی پل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
