
افغانستان میں شدید بارشوں اور سیلاب نے تباہی کے مناظر پھیلا دیئے۔ ہلاکتوں کی تعداد ایک سو نوے ہوگئی۔ سیکڑوں افرادزخمی جبکہ متعدد لاپتہ ہیں۔
افغان حکام کے مطابق امدادی کارکن لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم خدشہ ہے کہ وہ سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں یا مٹی کے تودوں اور عمارتوں کے ملبے میں دب گئے ہیں۔
سیلاب کی تباہ کاریوں سے تقریبا چار ہزار خاندان متاثر ہوئے۔ جبکہ تین ہزار خاندانوں کو امداد کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے۔ حکام کے مطابق بڑی تعداد میں مکان اور عمارتیں بہہ گئی ہیں۔
سیلاب سے ملک کے پندرہ صوبے متاثرہوئے۔ جو زیادہ تر شمالی حصے میں ہیں۔ صوبہ پروان میں ہلاکتوں کی تعداد باقی صوبوں سے زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ سیلاب کی وجہ سے افغانستان کے صرف گیارہ صوبوں میں دو ہزار سے زیادہ خاندان بے گھر ہوئے جبکہ انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
ادھر نیپال میں موسلا دھار بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی۔ چار بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق ملک کے پہاڑی علاقوں کو مون سون بارشوں کے باعث قدرتی آفات کا بھی سامنا رہتا ہے۔



