
بھارت کی جانب سے کہا گیا کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور چینی وزیر خارجہ وینگ یی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام تر صورتحال کو ذمہ دارانہ طریقے سے سنبھالا جائے گا اور دونوں فریقین 6 جون کے سمجھوتے پر خلوص سے عملدرآمد کریں گے۔
بھارتی بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں اطراف سے معاملات کو کشیدہ کرنے والا کوئی اقدام نہیں ہوگا اور اس کے بجائے دو طرفہ معاہدوں اور پروٹوکولز کے مطابق امن و آتشی کو یقینی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی نے منسلک اخبار نے لکھا کہ گفتگو کے خلاصے کے مطابق چین کی جانب سے کہا گیا کہ فون کال صورتحال کو معمول پر لانے میں مدد کرے گی۔
بیان کے مطابق جہاں انہوں نے اپنے موقف کا اظہار کیا انہوں نے صورتحال کو معمول پر لانے والا لہجہ بھی استعمال کیا جو ان دونوں ممالک میں رائے عامہ قائم کرے گا۔
اس موقع پر چینی وزیر خارجہ نے بھارتی ہم منصب کو ٹیلی فون کرکے گلوان میں پیش آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔



