22 مئ کے بعد مئیر کراچی کون ہوگا کی بحث تیز ہونے کا امکان
دس جون کو مئیر کراچی کے انتخاب کی ساری راہیں ہموار ہو جائیں گی
دس جون کو مخصوص نشستوں پر بھی انتخابی عمل پورا ہو جائے گا
22 مئ کو کراچی سے منتخب یوسی چئیرمین، وائس چئیرمین اور جنرل ممبر حلف اٹھالیں گے
حلف برداری کے بعد یوسیز میں ایڈمنسٹریٹر دور بھی ختم ہو جائےگا
یوسی چئیرمین بلدیہ عظمی کراچی کی کونسل کے رکن ہونگے
مخصوص نشستوں پر انتخاب کے بعد بلدیہ عظمی کراچی کے اراکین کی تعداد 367 ہو جائے گی
246 یوسی چئیرمین، دو خواجہ سرا، دو خصوصی افراد، 12 اقلیتی، 12 نوجوان، 12 لیبر اور 81 خواتین کونسلرز بلدیہ عظمی کراچی کی کونسل کے رکن ہونگے
121 کونسلرز خصوصی نشستوں پر منتخب ہو کر بلدیہ عظمی کراچی کی کونسل کے رکن بنیں گے
مئیر کراچی کے انتخاب کیلئے184اراکین کی واضح اکثریت درکار ہوگی
کراچی میں کوئ بھی سیاسی پارٹی سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی ہے
تحریک انصاف، مئیر کراچی کیلئے ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتی ہے
جماعت اسلامی یا پیپلز پارٹی کو اپنا مئیر لانے کیلئے تحریک انصاف سے اتحاد کرنا پڑے گا
پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے اتحاد کی صورت میں مئیر کراچی کس کا ہوگا؟؟؟؟
جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی دونوں ہی مئیر کراچی اپنا لانا چاہتی ہیں
دیگر سیاسی جماعتوں یا آزاد امیدواروں کا اتحاد بھی پیپلز پارٹی یا جماعت اسلامی کا مئیر نہیں لاسکتا
کچھ عرصے بعد پارٹیوں کا اتحاد ہی واضح کرے گا کہ مئیر کراچی کون ہوگا؟
ممکنہ طور پر تحریک انصاف کا رخ جہاں ہوگا مئیر بھی وہیں کا ہوگا
کراچی میں مئیر کراچی کے انتخاب کیلئے تحریک انصاف اکثریتی پارٹیوں سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے



