
جس پرگھروں میں محصور اور تفریح کو ترسے افراد خصوصاً بچوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انتظامیہ کی طرف سے تاکید کی گئی ہے کہ پبلک پارکس میں کسی بھی ایک جگہ پر زیادہ سے زیادہ پانچ افراد اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ کے اکٹھے ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔البتہ سوئمنگ پولز، فٹنس سنٹرز، جِم، کڈز کلبز اور سپا پر پابندی برقرار رہے گی۔
دوسری جانب سپریم کمیٹی آف کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے شاپنگ مالز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس میں فٹنگ رومز استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے علاوہ لوگ اپنا سامان واپس کروانے بھی جا سکتے ہیں یا سامان کے بدلے رقم واپس بھی لے سکتے ہیں۔ البتہ شاپنگ مالز اور دیگر آؤٹ لیٹس کو کورونا کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کی سختی سے پابندی کرنی ہو گی۔
جبکہ ٹرامز، بحری ٹرانسپورٹ (دُبئی فیری اور واٹر ٹیکسیاں) روایتی اور غیر روایتی ابراز اور کار شیئرنگ سروسز کوبھی اجازت دے دی گئی ہے تاہم ان تمام ٹرانسپورٹ سروسز کو دُبئی روڈز اینڈ اتھارٹی کی کی جانب سے مقرر کردہ نظام الاوقات کی مکمل پابندی کرنا ہوگی۔
اسی طرح کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کی صرف کھُلے مقامات پر اجازت ہو گی، مگر ان سرگرمیوں میں بھی پانچ سے زائد افراد حصّہ نہیں لے سکتے۔ ان سپورٹس میں سائیکلنگ، واٹر سپورٹس اور سکائی ڈائیونگ شامل ہیں۔ ان سپورٹس سرگرمیوں کے دوران بھی مقامی اور وفاقی حکام کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی و حفاظتی تدابیر کی مکمل طور پر پابندی کرنا ہو گی۔ تاکہ کورونا وائرس کی وبا کو مزید پھیلنے سے روک کر لوگوں کی زندگیوں اور صحت کو محفوظ تر بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ اماراتی حکومت کی جانب سے تمام کاروباری مراکز کے لیے سرکاری طور پر سرکلر جاری کیا گیا ہے کہ مرکزی دروازوں پر تھرمل سکیننگ کیمرے نصب کرنے لازمی ہوں گے جس سے داخل ہونے والے ہر شخص کا جسمانی درجہ حرارت نوٹ کیا جائے گا۔



