کراچی کے گوٹھوں میں گھروں میں غیر قانونی ہائیڈرینٹ قائم کر دئیے گئے
ایکسئین اور انچارج اینٹی تھیفٹ عبدالواحد شیخ نے پانی چوری پر آنکھیں موند لیں.

کراچی(رپورٹ: فرقان فاروقی)کراچی میں پانی چوری کا نیٹ ورک چلانے میں واٹر بورڈ پولیس کے ساتھ ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، پانی چوری کا نیٹ ورک گوٹھوں کے گھروں سے چلایا جارہا ہے، ذرائع کے مطابق پانی چوری میں ملوث افراد منگھو پیر، بلوچ کالونی، گرم چشمہ، کنواری کالونی میں چھ مقامات پر مختلف افراد ملکر غیر قانونی ہائیڈرینٹ کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں،یار محمد گوٹھ میں تین افراد تین ہائیڈرینٹ چلا رہے ہیں، شور محمد گوٹھ میں سات افراد سات مختلف مقامات پر گھروں کے ذریعے واٹر ہائیڈرینٹ چلا رہے ہیں، رمضان گوٹھ میں چار، مہران سٹی، اجتماع روڈ، خیرآباد، لعل زیبو گوٹھ، مائ کلاچی پولیس چوکی روڈ، الطاف نگر، حب چوکی، حب نہر، حسن پیر، جنجال گوٹھ، جنی گوٹھ، گلشن معمار، ایوب گوٹھ میں درجنوں غیر قانونی ہائیڈرینٹس اور گڑھے کر کے دھڑلے سے ٹینکر کی مدد سے پانی چوری کیا جارہا ہے

جس پر اینٹی تھیفٹ کے انچارج عبدالواحد شیخ نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر کے اس بات کو یقینی بنادیا ہے کہ مذکورہ درجنوں گھروں میں قائم واٹر ہائیڈرینٹس ان کی چھتر چھایا میں چلائے جارہے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی چوری کا بڑے پیمانے پر چلایا جانے والا یہ نیٹ ورک بھاری بھرکم اور با اثر افراد کی مدد سے چل رہا ہے،پولیس فی ٹینکر ہزاروں روپے بھتہ وصول کرتے ہےجب کہ واٹر بورڈ فی کھڈہ پچاس ہزار روپے تک وصول کرتی ہے جس کی وجہ سے شہر کی پانی کی سپلائی کو چوری کرلیا جاتا ہے،

یہ کاروبار عرصے سے جاری ہے برسات کے بعد حب ڈیم سے کراچی کو ہونے والی پانی کی سپلائی ہمیشہ متاثر رہنے کی اہم وجہ یہ ہے کہ مذکورہ مقامات پر درجنوں گھروں میں واٹر ہائیڈرینٹ موجود ہونے کے ساتھ درجنوں کھڈے موجود ہیں جو لبالب بھرے رہتے ہیں، واٹر بورڈ کے ملوث ہونے کی اہم وجہ ایم ڈی واٹر بورڈ سمیت سندھ حکومت کے اعلی حکام کا آنکھ بند کرلینا ہے جس کا نقصان کراچی کے شہری سالوں سے برداشت کر رہے ہیں.



