کراچی کے بلدیاتی اداروں میں ہیلی پیڈ تیار کر کے ہیلی کاپٹرز اتارے جانے لگے

بلدیہ شرقی، کورنگی اور جنوبی میں سب سے زیادہ ہیلی کاپٹرز اتارے جاچکے ہیں

جعلی ملازمین کی تعیناتیوں کیلئے بلدیاتی سربراہان پر شدید دباؤ ہے

کراچی(رپورٹ: فرقان فاروقی) بلدیہ شرقی، جنوبی اور وسطی میں ہیلی پیڈ تیار کر کے جعلی ملازمین کی تعیناتیاں تاحال جاری ہیں زیادہ تر ملازمین کا تعلق ایس سی یوجی سروسز سے ہے جو دراصل بلدیاتی اداروں کے ملازمین ہی نہیں ہیں کونسل سروس ملازمین کی بلدیاتی اداروں میں تعیناتیاں کی جارہی ہیں جن کے نہ سر کا پتا ہے اور نہ ہی پیر کا معلوم، ایس سی یوجی سروسز ملازمین کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ ان کے دستاویزات بھی مکمل ہیں یعنی ان کی تعیناتی میں محکمہ بلدیات کا مکمل نیٹ ورک بھی ان ملازمین کے ساتھ ملا ہوا ہے ایس سی یوجی سروسز نے ہیلی کاپٹر افسران بھی بلدیاتی اداروں میں اتار رکھے ہیں جن کی سروس پروفائل مکمل ہے لہذا ان کو جعلی قرار دینا ناممکنات میں سے ہے، کونسل سروس افسران وملازمین محکمہ بلدیات کی منظوری سے آرہے ہیں تو ان کی دستاویزات میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر کوئی ملازمین منظم طریقہ کار کو اختیار کئے بغیر بلدیاتی اداروں میں آرہا ہے تو وہ شدید مشکلات کا شکار ہو کر بلدیاتی اداروں میں تعیناتی حاصل نہیں کرپاتا ہے بلدیاتی اداروں کے اہم ذرائعوں کے مطابق اب تک سینکڑوں افسران وملازمین کراچی کے ساتوں بلدیاتی اداروں سمیت ڈسٹرکٹ کونسل کراچی میں تعینات کئے جاچکے ہیں نوتشکیل شدہ ضلع کیماڑی میں تاحال ایسے افسران وملازمین کو کھپانے کا عمل جاری ہے گزشتہ روز ڈائریکٹر لوکل فنڈ آڈٹ سندھ نے ایک حکمنامہ جاری کر کے تعیناتیوں وتقرریوں کے حوالے سے متعلقہ بلدیاتی اداروں کے آڈٹ افسران کو کہا ہے کہ وہ کونسل سروس افسران کی تعیناتیوں وتقرریوں کے حوالے سے مکمل پروفائل طلب کریں جبکہ ایس سی یوجی سروسز کے افسران وملازمین کو اس سے بری الذمہ قرار دیا گیا ہے جبکہ اصل خرابی ایس سی یوجی سروسز میں ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا ہوتا رہا تو ٹاؤنز کے قیام سے قبل جتنےہیلی کاپٹرز بلدیاتی اداروں میں اتارنے ہیں اتار دئیے جائیں گے جس کے سدباب کیلئے متعلقہ حکام سمیت تحقیقاتی اداروں کو حرکت میں آنا پڑے گا.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں