سلیکٹ کمیٹی کے اجلاس کے بعد بلدیاتی ترمیمی بل 2022 حتمی شکل میں داخل ہونے کا امکان

تاحال سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوسکا

کراچی(رپورٹ:فرقان فاروقی) بلدیاتی ترمیمی بل 2021 پرسیاسی جماعتوں کے دھرنے
اوراحتجاج کے بعد سندھ اسمبلی نے نئے بلدیاتی ترمیمی بل 2022 کو حتمی شکل دینے کیلئے سلیکٹ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں بلدیاتی ترمیمی بل 2022میں مزید ترمیمات کے لئے 23 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی کمیٹی کے چئیرمین وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ ہیں اس کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے البتہ جماعت اسلامی اور ٹی ایل پی نے نمائندگی نہ ہونے پر اعتراض بھی اٹھایا ہے مذکورہ کمیٹی کی منظوری سندھ اسمبلی نے دی ہے،لیکن تاحال اس کمیٹی کے بارے میں اطلاع نہیں ہے کہ اس نے اجلاس منعقد کئے یا نہیں کیونکہ جب تک مذکورہ کمیٹی کے اجلاس منعقد نہیں ہونگے بلدیاتی ترمیمی بل کی کوئی حتمی شکل سامنے آنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ اجلاس کے بعد ہی نئے ترمیمی بلدیاتی ایکٹ 2022 کو حتمی شکل دی جاسکے گی، سلیکٹ کمیٹی کے اجلاس میں تاخیر مقامی حکومتوں کے نظام میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے جماعت اسلامی اور پی ایس پی پہلے ہی اس سلسلے میں اپنے نکات پیش کر چکی ہے دیگر سیاسی جماعتوں کے نکات اور رائے کے بعد بلدیاتی نظام حتمی شکل حاصل کرے گا جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان صوبوں میں الیکشن انعقاد کرنے کا عندیہ دے چکا ہے ممکنہ طور پر سندھ میں بھی ماہ جون میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوسکتا ہے. فی الوقت بلدیاتی ادارے ہوا میں معلق ہیں بلدیاتی اداروں میں تاحال سندھ لوکل گورئمنٹ ایکٹ 2013 رائج ہے سلیکٹ کمیٹی کی سفارشات کے بعد ہی سندھ میں نیا بلدیاتی نظام رائج ہوسکے گا.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں