
غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق روس کی جانب سے یہ اقدام فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی ذاتی درخواست پر اٹھایا جارہا ہے۔
کیف سے راہداری روسی اتحادی بیلاروس کی جانب لے جائے گی اور خارکیف کے شہریوں کے پاس صرف روس کی جانب جانے والی راہداری ہوگی جبکہ ماریوپول اور سومی سے راہداریاں یوکرین کے دوسرے شہروں اور روس دونوں کی جانب لے جائے گی۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جو لوگ کیف چھوڑنا چاہتے ہیں انہیں ہوائی جہاز سے روس بھیجا جا سکے گا۔
وزارت نے مزید کہا کہ وہ انخلا کی نگرانی کے لیے ڈرون کا استعمال کرے گی۔
روسی وزارت دفاع نے مزید بتایا کہ روس اور پوری مہذب دنیا کو دھوکہ دینے کی یوکرین کی جانب سے کوششیں اس بار بیکار ہیں۔
روس کے حملے کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے۔
حملے کے باعث 15 لاکھ سے زیادہ یوکرینی شہری بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور ہوچکے اور روسی معیشت کو مفلوج کرنے کے مقصد سے مغربی ممالک نے سخت پابندیاں لگائی ہیں۔
روس نے 24 فروری کو شروع کی گئی اس مہم کو “خصوصی فوجی آپریشن” قرار دیا ہے، اس نے بارہا شہری علاقوں پر حملے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا یوکرین پر قبضے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
تیل کی قیمتیں ایشیائی تجارت میں 2008 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ جو بائیڈن انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ روسی تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے مواقع تلاش کر رہا ہے، روس عالمی سپلائی کا سات فیصد تیل فراہم کرتا ہے۔
جاپان، جو روس کو خام تیل فراہم کرنے والا پانچواں سب سے بڑا ملک شمار کرتا ہے۔
وہ بھی امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ ممکنہ طور پر روسی تیل کی درآمدات پر پابندی لگانے کے بارے میں بات چیت کر رہا ہے۔
یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا کہنا ہے کہ روسی افواج بیلاروس سے جنوب میں اپنی اہم پیش قدمی میں کئی دنوں کی سست پیش رفت کے بعد کیف پر حملہ کرنے کے لیے وسائل جمع کرنا شروع کر رہی ہیں۔
تقریباً دو لاکھ لوگ بحیرہ اسود کی محاصرہ شدہ بندرگاہ ماریوپول میں پھنسے ہوئے ہیں، زیادہ تر روسی افواج کی جانب سے چھ دن سے زیادہ کی گولہ باری سے بچنے کے لیے زیر زمین رہنے پر مجبور ہیں جبکہ یوکرینی حکام کے مطابق روسی افواج نے خوراک، پانی، بجلی اور حرارتی نظام کو منقطع کر دیا ہے۔
ماریوپول شہر کے 4 لاکھ لوگوں میں سے نصف کو نکالا جانا تھا لیکن یہ کوشش دوسرے دن اس وقت روک دی گئی۔
جب جنگ بندی کا منصوبہ ناکام ہو گیا اور فریقین نے ایک دوسرے پر فائرنگ اور گولہ باری روکنے میں ناکامی کا الزام لگایا۔
یوکرین کے حکام نے کہا تھا کہ جنوبی شہر میکولائیف پر گولہ باری کی جا رہی ہے۔



