امتیاز ابڑو بلدیہ عظمی کراچی کے کماؤ پوت بن گئے
اضافی عہدوں کی بھرمار نے سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں بکھیر دیں

کراچی(رپورٹ: فرقان فاروقی)بلدیہ عظمی کراچی میں امتیاز ابڑو نامی گریڈ اٹھارہ کے افسر موجود ہیں جن کے پاس بیک وقت چار عہدے موجود ہیں، وہ تاحال سینئیر ڈائریکٹر اسٹیٹ، ڈائریکٹراسٹیٹ، سینئیر ڈائریکٹر فنانس اور فنانشل ایڈوائزر کے عہدوں پر براجمان ہیں ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسٹیٹ کی مارکیٹوں کے چالانوں کی خرد برد میں ملوث ہیں جبکہ اپنے اعلی افسران کو نوازنے کا فن بخوبی جانتے ہیں ذرائع کے مطابق سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد کو نوازنے کے ساتھ ان کی بیگم کو جو کہ بلدیہ عظمی کراچی کی ملازم بھی نہیں ہیں کو بنگلہ اور خاص خاص افسران اور ان کی فیملی ممبران کو گھر الاٹ کئے، اسوقت مذکورہ افسر ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب اور میونسپل کمشنر افضل زیدی کو مال بٹور کر فراہم کرنے میں مصروف ہیں انہیں کسی بھی افسر کی انکوائری میں شامل رکھا جاتا ہے جو انکوائریوں پر رقم بٹورتے ہیں کورنگی اور صدر کی دکانوں اور بازاروں کے گھپلوں میں بھی ملوث ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے افسر طارق صدیقی کے ساتھ مل کر انہوں نے زمینی معاملات میں بھی خرد برد کی ہے، بلدیہ عظمی کراچی کے افسران کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی اب بھی کرپشن کا مرکز بنی ہوئ ہے افسران کے حق مار کر ایک ہی افسر کو کئ کئ عہدے بانٹنا واضح کرتا ہے کہ بنا مالی مفادات کے کسی کو عہدے نہیں دئیے جاسکتے جبکہ کئ افسران اب بھی پوسٹنگ کے منتظر ہیں اور انہیں گھر بٹھا کر من پسند افسران تعینات کئے گئے ہیں جو خود بھی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں اور اعلی افسران کے بھی کماؤ پوت بنے ہوئے ہیں ایسے افسران کی گرفت اسقدر مضبوط ہے کہ جو انہیں گرانے کی کوشش کرتا ہے اسے ہی گرا دیا جاتا ہے، امتیاز ابڑو ایسے ہی افسر ہیں جو اسٹاپ گیپ مینجمنٹ کے نام پر ایک نہیں بلکہ چار عہدے سنبھالے بیٹھے ہیں.



