
روس اور یوکرین میں میں خونیں لکیریں ہیں کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں، توپوں اور میزایلوں کی گھن گرج ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
دونوں طرف سے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے ہیں تاہم روس کو اب یوکرین کی سرزمین کے اہم حصوں پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔، خرسون میں حملے کے دوران دو سو افراد ہلاک ہو گئے۔خارکیف میں بھی گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔
اقوا م متحدہ کے مطابق جمعرات سے اب تک فوجی نقصانات کے علاوہ کم از کم ایک سو چھتیس شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں تیرا بچے بھی شامل ہیں۔
روس نے گذشتہ جمعرات کو اپنا حملہ تین اہم سمتوں شمال، جنوب اور مشرق سے شروع کیا تھا،جس میں یوکرین کے متعدد فوجی ٹھکانوں، فضائی سہولیات کو تباہ کیا گیا،روسی وزارتِ دفاع کے مطابق اب تک یوکرین کی ایک ہزار تین سو پچیس فوجی تنصیات تباہ کی گئیں۔
خارکیف پر چھاتہ برداروں کو اتارنے کے بعد روسی فوج کا ایک بہت بڑا قافلہ دار الحکومت کیف کی جانب رواں دواں ہے ، چالیس میل طویل اس قافلے میں انتہائی مہلک ہتھیاروں سے بھرے ٹرک بھی شامل ہیں۔



