بلدیہ کراچی کے اعلی افسر کی جانب سے میرے شوہر کو ہراساں کیا جا رہا ہےآئی جی سندھ درخواست پر ایف آئی آر درج کرائیں،مسز رضوان خان

سندھ ہائی کورٹ سے توہین عدالت کے نوٹس کے اجراء کے بعد شوہر کو جان سے مارنےکی دھمکیوں میں تیزی آگئی۔ مسز رضوان

کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر اور سینئر ڈائریکٹر، سابق ڈپٹی کمشنر دادو، ای ڈی او ریونیو، ای ڈی او کمیونٹی ڈیولپمنٹ دادو، ٹنڈوالہ یار، ڈائریکٹر لینڈ محمد رضوان خان کی اہلیہ مسز شہنیلہ رضوان نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ ،، چیئرمین بلاول بھٹو، صدر کراچی پی پی پی سعید غنی، صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ، سیکریٹری بلدیات نجم شاہ، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی سندھ، غلام نبی، کمشنر کراچی اقبال میمن، ڈپٹی کمشنر جنوبی، غربی، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، چیف جسٹس سپریم کورٹ، چیئرمین نیب، چیئرمین اینٹی کرپشن، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن غربی، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن غربی اور اعلی حکام کے نام الگ الگ مراسلوں، درخواستوں میں کہا ہے کہ انکے شوہر کو بلدیہ کراچی کے اعلی افسر کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ آئی جی سندھ درخواست پر ایف آئی آر درج کرائیں۔ ورنہ سیشن جج کے ذریعے کاروائی کریں گے۔ سندھ ہائی کورٹ سے توہین عدالت کے نوٹس کے اجراء کے بعد شوہر کو دھمکیوں میں تیزی آگئی۔ مسز رضوان نے کہا کہ انہیں انکے اہل خانہ اور شوہر کو مکمل تتحفظ یا جائے۔ تھانہ جانبداری سے کام لے آرہا ہے۔ جان کا خطرہ ہے اس لئے تحریری بیان جمع کرادیئے ہیں۔ اہلیہ محمد رضوان خان نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں بھی پیش ہوکر اس افسر کو بے نقاب کروں گی۔ جس پر خواتین ملازمیں کو جنسی ہراساں کرنے کی کیس بھی ہے۔ اعلی عدالت سے انصاف کے لئے ہر قانونی پہلو استعمال کریں گے۔ افسروں کا سیاسی گروپ مسلسل پریشان کر رہا ہے۔ مسز رضوان نے کہا کہ انکے شوہر کو جعلی شوکاز دیا گیا جبکہ انکے پاس اورنگی کاٹیج انڈسٹری کبھی نہیں رہی۔ ہمیشہ سے لینڈ مینیجمنٹ کے ایم سی کا حصہ ہے۔چیف سیکریٹری کے آرڈر کو بائی پاس کیا گیا۔ 22مارچ 2021سے نا اہل افسر اب تک کیس ڈسپوزل نہیں کرسکا۔ حتی کہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر بھی 18نومبر تک کاروائی نہیں کی۔ کیونکہ یہ افسر رولز اور حقائق سے نا بلد ہے۔ اس لئے اب عدالت انکے توہین عدالت کے نوٹس جاری کرچکی ہے اور اسکے بعد سے وہ چراغ پا پیں جس میں پرووک کرنے میں لیگل ایڈوائزر اور سیاسی لسانی جماعت سے تعلق رکھنے والے بعض افسران ہیں جنکی ایف آئی آر کے لئے پہلے ہی لکھا جا چکا ہے۔ مسز رضوان نے کہا کہ انویسٹی گیشن افسر پر اعتبار نہیں وہ ملزمان سے رابطہ کرکے انہیں ں آگاہی دے رہا ہے۔ ہمارے بیانات پر ایف آئی آر نہ کٹی تو اعلی عدالت سے رجوع کریں گے۔

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں