بلدیہ عظمی کراچی، بلدیہ شرقی سمیت دیگر ادارے بھی چارجڈ پارکنگ فیسز وصول کرنے میں مصروف
کراچی(رپورٹ: فرقان فاروقی)جب سے طارق روڈ کی تعمیر کی گئ ہے اس کے بعد طارق روڈ چارجڈ پارکنگ مافیاز کی زد میں ہے، بلدیہ عظمی کراچی اور بلدیہ شرقی کے علاوہ پولیس وٹریفک پولیس کا بھی اس عمل میں مبینہ طور پر ملوث ہیں بلدیہ عظمی کراچی اور بلدیہ شرقی اپنے تئیں چارجڈ پارکنگ فیسیں وصول کرنے میں مصروف ہیں جبکہ دونوں بلدیاتی اداروں میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ ان کی حدود کہاں ہے، تفصیلات کے مطابق چار سال قبل طارق روڈ کی تعمیر کے بعد وزیراعلی سندھ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ طارق روڈ کو تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ سے آزاد رکھا جائیگا سڑک پر صرف سنگل لین پارکنگ کی اجازت ہو گی جبکہ دکاندار حضرات سڑک پر اپنی گاڑیاں پارک نہیں کریں گے بلدیاتی اداروں نے وزیر اعلی سندھ کے احکامات کو تاحال یکسر نظر انداز کر رکھا ہے اسوقت طارق روڈ کی آدھی سڑک تک پارکنگ نظر آ رہی ہے، جس کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر طارق روڈ سے گزرنا محال ہو رہا ہے،طارق روڈ پر موجود بڑے بڑے شاپنگ مال میں آنے والی گاڑیاں پارکنگ ایریا دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں یا متصل گراؤنڈز میں پارک کی جارہی ہیں لیکن جہاں بھی گاڑیاں پارک کی جائیں پارکنگ فیس وصول کرنے کیلئے عملہ دستیاب ہوگا، شہریوں کا کہنا ہے کہ چارجڈ پارکنگ مافیاز نے شہر کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے نہ اس سے بچت کا کوئ راستہ ہے اور نہ ہی اس سے فرار ممکن ہے بلدیاتی اداروں سے گزارش کرتے ہیں کہ چارجڈ پارکنگ کی مد میں مقرر کردہ فیسز سے زائد فیسیں وصول نہ کریں.



