کے ایم سی انتظامیہ بالخصوص میونسپل کمشنر اور سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم کو عدالت عالیہ نے توہین عدالت کے نوٹس کے بعد 17 مارچ کو طلب کرلیا

چیف سیکریٹری کے حکم نامہ پر لئیق احمد نے آرڈر سپر سیڈ کیا اور ایک سال سے محمد رضوان خان کو بغیر تعیناتی کے رکھا ہوا ہے

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے سابقہ پی ڈی اورنگی رضوان خان تعیناتی کیس میں پیٹیشن نمبر 2404/2021میں سندھ ہائی کورٹ کے واضع حکم کے باوجود 18 نومبر 2021تک عمل درآمد نہ کرنے پر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سہیل ظفر بھٹی جو پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی محمد رضوان خان کے وکیل ہیں انکی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر کے ایم سی انتظامیہ بالخصوص میونسپل کمشنر اور سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم کو توہین عدالت کے نوٹس کے بعد 17مارچ کو طلب کرلیا گیا ہے۔سندھ ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سہیل ظفر بھٹی نے اپنے موکل محمد رضوان خان کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی کی انتظامیہ خود کو عدالتوں سے بالا دست سمجھتی ہے۔ چیف سیکریٹری کو کلرک گردانا جاتا ہے انکے حکم پر ہونے والی تعیناتی کو ایڈمنسٹریٹر منسوخ یا ہٹانے کا حق نہیں رکھتے۔ لیکن بلدیہ عظمی کے افسران لئیق احمد نے یہ کیا اور موجودہ انتظامیہ بھی اسکی پیش رو ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں ڈیڑھ سال سے کیس چل رہا ہے۔ دو ماہ تعیناتی کی گئی لیکن سیاسی اور مخصوص
مقاصد کے تحت ہٹا دیا گیا۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے
کہ ہٹانے سے پہلے میونسپل کمشنر نے جو شوکاز دیا۔ اس سے پی ڈی اورنگی کا کوئی تعلق نہیں بنتا۔ اورنگی کاٹیج انڈسٹری لینڈ ڈپارٹمنٹ کا حصہ ہے اور اسوقت ڈپٹی کمشنر نے کے ایم سی سے یہ زمین لے لی ہے۔ جعلی شوکاز کا موکل نے اتنا مدلل جواب دیا کہ اس پر 22مارچ 2021سے اب تک کوئی کاروائی تو درکنار سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ جو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران کی دیدہ دلیری ہے۔ اسی لئے بلدیہ عظمی کراچی کے ڈائریکٹر گریڈ 19 و سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی محمد رضوان خان کی تعیناتی اور انہیں انصاف فراہم نہ کرنے پر بلدیہ کراچی کی انتظامیہ اور میٹروپولیٹن کمشنر، سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم کو توہین عدالت کے نوٹس جاری ہو چکے ہیں۔ شوکاز کے ریپلائی کے جواب سے پہلے ہٹا دیا گیا۔ 22مارچ 2021سے ابتک شوکاز پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ سندھ ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے جو جسٹس آفتاب احمد گورڑ اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل تھا۔ آئینی پیٹیشن 2404/2021 میں فریقین ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمشنر اور سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم کو عدالتی
حکم نامے پر عمل نہ کرنے پر توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیئے۔ وکیل سپریم کورٹ و سندھ ہائی کورٹ سہیل ظفر بھٹی ایڈووکیٹ نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف سیکریٹری کے حکم نامہ پر لئیق احمد نے آرڈر سپر سیڈ کیا اور ایک سال سے محمد رضوان خان کو بغیر تعیناتی کے رکھا ہوا ہے۔ تعیناتی سے ہٹانا بدنیتی اور میونسپل کمشنر کی زاتی عناد کی بنیاد پر اور لئیق احمد نے سیاسی بنیادوں پر کیا۔ اب بھی سیاسی دباؤ ڈال کر عمل درآمد سے روکا جا رہا ہے۔ توہین عدالت کے مرتکب افسران کو سزا دلائیں گے۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ و سندھ ہائی کورٹ سہیل ظفر بھٹی نے کہا کہ سندھ حکومت، چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری بلدیات، صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ سے کوئی شکایت نہیں جبکہ ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب کے سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ کوئی اعتراض نہیں رکھتے۔ میونسپل کمشنر ذاتی حیثیت میں سیاسی افراد کے دباؤ اور ذاتی عناد کی بنیاد پر توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جبکہ ہم نے ڈیڑھ سال سے صبر کا دامن تھاما ہوا ہے۔ میرے موکل کو شدید ذہنی اذیت دی گئی ہے۔ جسکی وجہ سے وہ شدید علیل رہے ہیں۔ اب عدالت عالیہ کاروائی عمل میں لائے گی تو انصاف اور عدالت کو نظر انداز کرنے والوں کو سبکی کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میرے موکل کا کردار اور سروس بے داغ ہے۔ ان پر نہ کوئی نیب کیس ہے اور نہ ہی اینٹی کرپشن
انکوائری۔ انہیں۔ تعیناتی سے محروم رکھنا کھلی نا انصافی اور عدالتی حکم پر عمل نہ کرنا کھلی توہین عدالت ہے۔ سرکاری اداروں کو سیاسی دباؤ کے بجائے سرکار کے مفاد میں فیصلے کرنے چاہئیں۔ محمد رضوان خان نے سوالات کے جواب میں کہا کہ ان پر نہ کوئی نیب کیس ہے نہ کوئی رجسٹرڈ اینٹی کرپشن انکوائری، انہوں نے ریکارڈ ریکوری دی۔ ایک سو چالیس ملین روپے اداروں سے لینے ہیں۔ لیکن یہاں سیاست اور اقرباء پروری اور امید کی آخری کرن عدلیہ کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ لیکن سندھ ہائی کورٹ پر بھرپور اعتماد ہے اور یہیں سے انصاف ملے گا۔ افسران کا ایک سیاسی گروپ افضل زیدی و دیگر کو گمراہ کرکے استعمال کرچکا ہے۔ نیب سے سزا یافتہ اور او پی ایس افسران کی بھرمار ہے۔ سٹی کورٹ تھانے میں زچ کرنے اور دیگر معاملات پر اہلیہ نے ایف آئی آر کی درخواست دی ہوئی ہے عدالت میں جائیں گے اگر جانبداری کا سلسلہ بند نہ ہوا۔ چیف سیکریٹری اور اعلی حکام نے دوبارہ تعیناتی کا حکم دے دیا ہے لیکن میونسپل کمشنر اور بعض اعلی حکام نے اسے روک دیا ہے۔ جبکہ نیب سے سزا یافتہ افراد تعینات کردیئے گئے ہیں۔ کراچی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن علیحدہ پیٹیشن داخل کریگی، منظر وارثی نے بتایا۔ اس موقع پر کے ایم سی افسران، کووا کراچی، یونائیٹد آفیسرز فورم، پیپلز آفیسرز فورم کے رہنما بھی موجود تھے۔



