سندھ کابینہ کا آئندہ اجلاس بلدیاتی اداروں کے بااختیار ہونے کے لحاظ سے اہمیت اختیار کر گیا
اختیارات کے لحاظ سے کئی اہم فیصلے متوقع
بلدیہ عظمی کراچی میں یونیورسٹی کے قیام کی بھی منظوری حاصل کی جائے گی
کراچی(رپورٹ: فرقان فاروقی) 17 فروری کو ہونے والا اجلاس بلدیاتی اداروں کے با اختیار بنانے کے حوالے سے انتہائ اہمیت اختیار کر گیا ہے، سندھ کابینہ میں مئیر کو با اختیار بنانے کے حوالے سے فیصلوں کو حتمی شکل دی جائے گی جس میں مئیر کو ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ودیگر اداروں کے لحاظ سے دئیے گئے اختیارات کو حتمی شکل دی جائے گی، با اختیار بلدیاتی نظام کے حوالے سے کابینہ اجلاس میں تمام ان امور پر غور کر کے فیصلے کئے جائیں گے جو سیاسی پارٹیوں سے مشاورت اور حاصل کئے گئے نکات پر مبنی ہونگے، سب سے اہم بات جو صوبائی کابینہ میں زیر بحث لائی جائے گی وہ یونیورسٹی کا قیام ہے جس کیلئے کابینہ کی منظوری حاصل کی جائے گی یہ یونیورسٹی بلدیہ عظمی کراچی کے زیر انتظام کرے گی ممکنہ طور پر کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا، صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بعد انہیں قانونی شکل دینے کیلئے اسے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا جس کی منظوری کے بعد نیا بلدیاتی نظام حتمی شکل اختیار کرلے گاذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ بلدیاتی نظام میں قابل عمل باتوں کو یقینی بنایا جائے گا اور ایسا بلدیاتی نظام سامنے لایا جائے گا جو ہر سطح پر قبول کیا جائے جس کی اہم وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سندھ کے بلدیاتی نظام پر جو اعتراض اٹھایا گیا ہے اس میں سب سے اہم پہلو سندھ میں نافذ بلدیاتی نظام کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 140 اے کے منافی قرار دینا ہے،سندھ حکومت کے وزیربلدیات سمیت دیگر وزراء بلدیاتی نظام کو حتمی شکل دینے کیلئے سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو متفق کرنے کے بعد متفقہ طور پر بلدیاتی نظام منظور کروایا جائے.



