کراچی میں وطن سے بے لوث محبت اجاگر کرنے کیلئے کنکریٹ قومی پرچم کیلئے مختص جگہیں کہاں گئیں

کراچی میں وطن سے بے لوث محبت اجاگر کرنے کیلئے کنکریٹ قومی پرچم کیلئے مختص جگہیں کہاں گئیں

سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان نے 50 مقامات پر یہ جگہیں تعمیر کی تھیں

کراچی(رپورٹ: فرقان فاروقی)کراچی میں 50 سے زائد مقامات پر وطن سے بے لوث محبت اجاگر کرنے کیلئے کنکریٹ بنیاد پر پرچم نصب کئے گئے تھے جو اسوقت مکمل طور پر ختم ہوچکے ہیں، جنرل پرویز مشرف کے دور میں کراچی کے سابق ناظم شہر نعمت اللہ خان مرحوم نے یہ کام سر انجام دیا تھا 2004 میں پچاس مقامات کو اس سلسلے میں منتخب کیا گیا، شاہراہ قائدین کو مزار قائد کی موجودگی کی وجہ سے مکمل طور پر پاکستان کے جھنڈوں سے آویزاں کیا گیا تھا اور یہ پلان تھا کہ نمائش چورنگی پر شہر کا بلند ترین پرچم آویزاں کیا جائیگا جو سارے سال نصب رہے گا مگر 2005 میں نعمت اللہ خان کے نظامت کا دور ختم ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا، مستقل بنیادوں پر سارے سال پرچم آویزاں رکھنے کے سلسلے میں شاہراہ فیصل پر 18 مقامات پر بس اسٹاپ کی طرز پر پرچم لگانے کیلئے جگہیں مختص کی گئیں جبکہ سندھ سیکریٹریٹ سمیت دیگر مصروف جگہوں پر اسٹرکچر تیار کر کے پرچم آویزاں کئے گئے، ملّی یگانگت کیلئے کئے جانے والا یہ بہترین کام دو سال بھی قائم نہیں رہ سکا آج پچاس مقامات میں سے ایک جگہ بھی موجود نہیں ہے جہاں مستقل بنیادوں پر پاکستان کا قومی پرچم ہوا کے دوش پر لہرا رہا ہو، بلدیہ عظمی کراچی کی لازمی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہے کہ وہ شہر وملک کی اہمیت و ملی یکجہتی کو فروغ دینے کے منصوبے تشکیل دے اور قومی پرچموں کی شہر بھر میں نمائش اسکا بہترین اطلاق ہے آج شہر میں سیاسی جماعتوں کے پرچموں کی بہار ہوتی ہے مگر سیاسی جماعتوں کے پرچموں کے آگے قومی پرچم سرنگوں نظر آتا ہے، سندھ حکومت اور ایڈمنسٹریٹر کراچی، مرتضی وہاب سمیت ضلعی بلدیات میں موجود ایڈمنسٹریٹرز سے گزارش ہے کہ 2004 میں ایک اچھا منصوبہ بنا کر اسکو حتمی شکل دی گئ تھی جوغفلت کی وجہ سے دم توڑ چکی ہے چودہ اگست سے قبل کراچی کی اہم شاہراہوں، گزرگاہوں و تاریخی جگہوں پر دوبارہ قومی پرچم آویزاں کرنے کیلئے اسٹرکچر تعمیر کر کے ان پر سارے سال قومی پرچم آویزاں رکھے جائیں جبکہ سرکاری فرمان جاری کیا جائے کہ سرکاری دفاتر چاہے وہ کسی نوعیت کے کیوں نہ ہوں اپنے دفاتر پر نمایاں طور پر قومی پرچم آویزاں کریں گے، اس طرز عمل سے ہم اپنے قومی تشخص کو ہمیشہ یاد رکھیں گے جبکہ شہریوں میں بھی ملک سے محبت کو اجاگر کیا جاسکے گا کہ چاہے ملک میں کتنے ہی سیاسی پرچم کیوں نہ ہوں سبز ہلالی پرچم سب سے نمایاں ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بھی قومی پرچم کو اہمیت دیں اسوقت تمام سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھ کر نظر ڈالی جائے تو پاک سر زمین پارٹی نے پاکستانی پرچم سے مشابہت رکھنے والا سیاسی پرچم متعارف کروایا ہے ایسا ہی دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی قومی پرچم کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جب آپ دنیا میں کہیں بھی جاتے ہیں تو آپ کی پہچان آپکا قومی پرچم ہوتی ہے پاسپورٹ کسی اور سیاسی پارٹی سے مشابہت نہیں رکھتا بلکہ قومی پرچم کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے کہیں سرکاری طور پر جاتے ہیں تو قومی پرچم لگی جگہیں ہوتی ہیں، کراچی میں سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان مرحوم نے ایک اچھا کام کیا تھا اسے دوبارہ کر لیا جائے تو کوئ مذائقہ نہیں ہے.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں