شہر کے اجڑے انفراسٹرکچر کو بحال کرنے میں ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں

بلدیاتی ادارے بیوٹیفیکیشن کے کاموں تک محدود بنا دئیے گئے

شہر کے اجڑے انفراسٹرکچر کو بحال کرنے میں ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں

کراچی(رپورٹ: فرقان فاروقی)کراچی کے بلدیاتی اداروں کی جانب سے دیگر بلدیاتی خدمات کو پس پشت رکھکر بیوٹیفیکیشن کے کام کئے جارہے ہیں جس کا یہ فائدہ ضرور ہو رہا ہے کہ کراچی کے فلائی اوورز، چوراہے، گرین بیلٹس خوبصورت روشنیوں کے ساتھ پودوں اور پھولوں سے خوبصورت بن رہے ہیں لیکن دیگر ضروری بلدیاتی خدمات جس میں علاقائی سطح پر انفراسٹرکچر بہتر بنانے کا کام تعطل در تعطل کا شکار ہے کراچی کے گنجان آباد علاقے جن کی تعداد بہت زیادہ ہے سڑکوں، اسٹریٹ لائٹس سمیت سیوریج کے گھمبیر مسائل میں مبتلا ہیں لیکن مسائل حل ہی نہیں کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے نفرت پروان چڑھ رہی ہے ایم کیوایم پاکستان کی بلدیاتی نمائندگان کے جانے کے بعد عوام کی ساری امیدیں پیپلز پارٹی سے وابستہ ہوگئیں تھیں کہ شاید اب کراچی کے علاقوں کے انفراسٹرکچر کو درست کرنے کیلئے کام کئے جائیں گے

لیکن نتائج ایم کیوایم کی مئیرشپ جیسے ہی برآمد ہوئے لیپا پوتی اور اوپر اوپر کے کاموں سے کراچی کو تاحال چلایا جارہا ہے،سندھ میں کسی بھی وقت بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہوسکتا ہے کراچی کی سیاسی پوزیشن ہر ایک کے سامنے ہے شہری صرف ایک چیز کی جانب اپنی توجہ مبذول کئے ہوئے ہیں کہ کون ہوگا جو انہیں مسائل کی دلدل سے نکالے گا پیپلز پارٹی کیلئے کراچی کے شہریوں کو فتح کرنے کا کھلا میدان ملا ہوا ہے

کیونکہ اسوقت سندھ حکومت جو چاہے کر سکتی ہے لیکن مسائل سے چشم پوشی کی وجہ سے اس کیخلاف بھی لاوا ابل رہا ہے جسے دور کرنے کیلئے صرف یہ ہی راستہ ہے کہ شہر کے مسائل دور کئے جائیں شہریوں کو تین بنیادی مسائل مشکل میں مبتلا کئے ہوئے ہیں سیوریج،کچرا اور سڑکوں وگلیوں کی ہمواری کے کام سر انجام دے دئیے جائیں تو پیپلز پارٹی کو کراچی میں بلدیاتی حکومت بنانے سے کوئی روک نہیں سکتا،صرف پیپلز پارٹی کے تھنک ٹینک کو سوچنا ہوگا کہ مذکورہ معاملات کے حل کیلئے کس طرح اقدامات کرنے ہیں.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں