محکمہ آکٹرائے کی بحالی، نہ صرف کراچی بلکہ سندھ میں بہتری لاسکتی ہے

محکمہ آکٹرائے کی بحالی، نہ صرف کراچی بلکہ سندھ میں بہتری لاسکتی ہے

کراچی کو آکٹرائے ضلعی ٹیکس کے بجائے محکمہ آکٹرائے کی ضرورت ہے

کراچی(رپورٹ: فرقان فاروقی)بلدیہ عظمی کراچی کے وہ افسران وملازمین جو محکمہ آکٹرائے میں تعینات رہ چکے ہیں اور ان میں اکثریت ایسے افسران وملازمین کی ہے جو اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں اس بات پر ششدر دکھائ دے رہے ہیں کہ کراچی کو ترقی کی منازل طے کروانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن گزشتہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے اسے شدید مشکلات کا شکار کر دیا گیا ہے،1999 تک بلدیہ عظمی کراچی کسی قسم کی مالی مشکلات کا شکار نہیں تھی بلکہ اس کی مدد سے ضلعی بلدیات بھی پنپ رہی تھیں وجہ صرف یہ تھی کہ اسوقت بلدیہ عظمی کراچی میں محکمہ آکٹرائے بحال تھا اور روزانہ کروڑوں روپے آمدنی سے بلدیہ عظمی کراچی خوشحال تھی لیکن اس کے بعد سے بلدیہ عظمی کراچی شدید مالی بحران کا شکار ہے,سابق مئیر کراچی سمیت سیاسی جماعتیں احتجاج اور دھرنے کرتی رہیں لیکن ان کی جانب سے محکمہ آکٹرائے کی بحالی پر کوئی بات سامنے نہیں آئی،بلدیاتی اداروں کو اختیارات مل جائیں مگر جب تک وہ مالی طور پر مستحکم نہیں ہونگے دیگر معاملات ثانوی ثابت ہونگے کراچی کو اسوقت محکمہ آکٹرائے کی بحالی کی ضرورت ہے، سندھ حکومت پر آکٹرائے کی بحالی پر زور دیا گیا تو ممکنہ طور پر قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بحالی کو ممکن بنا دیا جائے کالعدم محکمہ آکٹرائے بلدیہ عظمی کراچی کے افسران کا کہنا ہے کہ آکٹرائے ہی وہ محکمہ ہے جس نے نہ صرف کراچی کومیگا پروجیکٹس دئیے بلکہ سندھ حکومت کو بھی ترقیاتی پروجیکٹس میں مالی معاونت فراہم کی ایسے محکمے کو محض مراعات یافتہ طبقے کی خواہش پر ختم کرنا کراچی سمیت دیگر کے ساتھ زیادتی تھی.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں