کراچی میں کاسمیٹک ترقیاتی کام ہر سال پیسہ نگل رہے ہیں
تکنیکی مہارتوں پر مبنی کام قصہ پارینہ بن چکے ہیں
کراچی (رپورٹ:فرقان فاروقی)کراچی کاسمیٹک ورک کے شکار شہروں میں سرفہرست ہونے لگا ہے، لانگ لائف پروجیکٹس کے بجائے کراچی کو وقتی کاموں سے چلایا جارہا ہے، برساتی نالوں کی صفائی کا کام جز وقتی ہونے کی وجہ سے معمولی برسات کے بعد مسائل پیدا ہوجاتے ہیں،کراچی کے بڑے نالے جن کی صفائی کی ذمہ داری کے ایم سی کی ہے،گزشتہ کئی برسوں سے مکمل طور پر صاف نہیں کئے گئے ہیں گزشتہ نالہ صفائی کا کام قدرے بہتر لیکن تہہ تک نالہ صفائی پر مشتمل نہیں تھا منظور کالونی، گجر نالوں سے منسلکہ آبادیوں سے گزرنے والے کئی کلو میٹر نالے آج بھی کچرے اور سیوریج میٹریل سے بھرے پڑے ہیں اسی طرح شہر کے ستائیس نالوں کی حالت زار بھی خراب ہے، نالوں پر اور گردونواح میں تجاوزات کیخلاف کاروائیاں بھی اس نوعیت کی نہیں ہیں جس نوعیت کا انہیں ہونا چاہیئے تھا بلدیاتی اداروں ہر مرتبہ برسات کی آمد کو نظر انداز کر دیتے ہیں جب محکمہ موسمیات کی جانب سے مون سون سیزن کی پیشن گوئیاں ہوتی ہیں تو نالہ صفائی شروع کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے شہری برسات کو بھگتتے ہیں، نالوں کج صفائی میں کاسمیٹک ورک شہریوں کیلئے شدید پریشانی کا سبب بنتا رہا ہے، آئندہ مون سون سیزن سے قبل اس معاملے کو درست سمت میں گامزن کرنا ضروری ہوگیا ہے،بلدیاتی اداروں کی جانب سے سڑکوں کی تعمیر،اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب سمیت ترقیاتی لحاظ سے جو بھی کام سر انجام دئیے جارہے ہیں وہ کاسمیٹک ثابت ہو رہے ہیں مذکورہ کاموں میں سے کوئی بھی کام تین ماہ سے زائد عرصے تک قائم ہی نہیں رہ پاتا جو اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ بلدیاتی اداروں میں نااہل اور رشوت خور افسران وملازمین تعینات ہیں یا انہیں مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ کوئی بھی کام لیپا پوتی کی حد تک کریں،کاسمیٹک ورک کے چلنے والے اس نظام کو کنٹرول کرنے والی سندھ حکومت کو فوری طور پر کراچی میں کاسمیٹک ورک کے سدباب کو یقینی بنانے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ ہرسال اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں لیکن کراچی کی صورتحال میں بہتری نہیں آرہی ہے صرف بیرونی طور پر کام کر کے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی میں بہت اور لانگ لائف کام ہورہا ہے.



