کرناٹک واقعے نے مسلم روایت کی شناخت یاد دلا دی
حجاب میں ملبوس مسلم نوجوان طالبہ نے یاد دلایا ہم کون ہیں؟
اسلامی روایات ہی مسلمانوں کی پہچان ہیں

کراچی (رپورٹ: فرقان فاروقی)بھارتی حکام کی جانب سے مسلسل ایسے اقدامات سامنے آرہے ہیں جس سے بھارتی مسلمانوں میں نفرتیں جنم لے رہی ہیں، کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی اور تعلیمی مدارس میں مسلم طالبات کو داخلے سے روکنے اور ہراساں کرنے کا عمل نفرتوں کو پروان چڑھائے گا،مسلم روایات کو کسی دھونس دھمکی سے دبایا نہیں جاسکتا اس کا عملی مظاہرہ مسکان نامی طالبہ نے عملی طور پر کر کے بھی دکھایا جب وہ باحجاب اپنی موٹر سائیکل پارک کرنے کے بعد تدریسی ادارے میں داخل ہوئیں تو دانستہ طور پر ان کے سامنے ہندؤ شدت پسند طالب علموں نے حجاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جے شری کرشن اور اسی قسم کے دیگر نعرے لگانا شروع کر دئیے درجنوں طالب علموں کے باوجود مسکان نے اپنی مسلم تربیت اور شناخت کو اجاگر کرتے ہوئے بلند وبالا آواز میں اللّہ اکبر کے نعرے لگائے جو ہندؤ شدت پسند طالب علموں کو منتشر کرنے کیلئے کافی ثابت ہوئ، اللہ اکبر ہر مسلم کیلئے ہر چیز سے بالاتر ہے لیکن ایمان کی کمزوری کے غالب آنے کی وجہ سے مسلمانوں میں یہ نعرہ لفظی شکل اختیار کرتا جارہا ہے لیکن آج بھی بہت بڑی تعداد میں ایسے مسلمان موجود ہیں جن میں نعرہ تکبیر روح وجان کی طرح پیوست ہے چاہے کیسے ہی حالات کیوں نہ ہوں وہ کبھی بھی نعرہ تکبیر سے دستبردار نہیں ہوتے ایسا ہی مظاہرہ مسکان نے بھی کیا، مسکان نے یاددلایا کہ ہم کون ہیں اور ہماری روایات کیا ہیں حق کے آگے نہ کسی کی اہمیت ہے اور نہ ہی کوئ اس سے بالاتر ہوسکتا ہے اسی جذبے کو بڑھاوا دیکر مسلم روایات کو آگے بڑھا کر ایک مرتبہ پھر دنیا کو دین اسلام کی وحدانیت کی جانب گامزن کیا جاسکتا ہے.



