ہندو انتہا پسندوں کے سامنے اپنے حجاب کا دفاع کرنے والی بہادر لڑکی مسکان کا اہم بیان سامنے آگیا

ہندو انتہا پسندوں کے سامنے  اپنے حجاب کا دفاع کرنے والی بہادر لڑکی مسکان کا اہم بیان سامنے آگیا
بھارت میں اپنے حجاب کا دفاع کرنے والی بہادر لڑکی نے دنیا بھر میں نئی مثال قائم کر دی۔انتہاپسند ہندوؤں کے سامنے ڈٹ جانے والی مسکان کا کہنا تھا کہ حجاب کی وجہ سے کالج داخل ہونے سے روکا گیا، ہجوم نے جے شری رام کے نعرے لگانے شروع کردیے، جواب میں اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔

لڑکی نے کہا کہ وہ حق پر تھیں اس لیے غنڈہ گردی کے سامنے ڈری نہیں، پرنسپل اور اساتذہ نے بھی میرا ساتھ دیا، حجاب مسلمان لڑکی کی پہچان ہے، اپنے حق کیلئے احتجاج جاری رکھیں گے۔

بھارتی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے مسکان نے کہا کہ’ہماری ترجیح ہماری تعلیم ہے، کپڑے کے ایک ٹکڑے کے پیچھے وہ ہمیں تعلیم کے حق سے محروم کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ کرناٹک میں گذشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے کئی کالجوں میں حجاب پر طالبات اور انتظامیہ کے درمیان اختلاف جاری ہے اور یہ معاملہ اب ہائی کورٹ میں ہے۔

بھارت میں حجاب تنازع شروع ہونے کے بعد کچھ سیاسی جماعتوں نے مبینہ طور پر طلبا میں زعفرانی شالیں تقسیم کی ہیں اور وہ اس تنازعے کو ہوا دے رہے ہیں۔

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet