سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے دکھائے گئے سہانے خواب حقیقت سے دور

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے دکھائے گئے سہانے خواب حقیقت سے دور

صوبائی وزیر بلدیات سندھ کو براہ راست بورڈ کی باگ ڈور سنبھالنی ہوگی

کراچی(, رپورٹ: فرقان فاروقی)سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے کراچی کے ضلعوں کا صفائ ستھرائی کا نظام سنبھال لیا ہے لیکن اربوں روپے کے معاہدے کے باوجود صفائ ستھرائی کی صورتحال اب بھی بہتر نہیں ہےچائنیز کمپنی کو صفائ ستھرائی کی ذمہ داری دے دی گئی لیکن اس سے درست سمت میں کام لینے سے اب بھی اجتناب برتا جارہا ہے،ضلع شرقی اور جنوبی سے 2016 سے معاہدے کئے گئے اور چھ سال گزرنے کے باوجود اب تک دونوں اضلاع میں مکمل طور پر گھر گھر سے کچرا اٹھانے کا کام تکمیل نہیں پاسکا ہے اور معاہدے کی کئی شقیں اب بھی جو ہوائی قلعوں میں بند ہیں کئے گئےمعاہدے شہریوں کو سہانے خواب دکھانے کے سوا کچھ اور ثابت نہیں ہوئے ہیں، واٹر براؤزر سوئپنگ مشینیں صفائی کرتی نظر آتی ہیں جب کوئی بڑا ایونٹ ہو مگر وہ اب کہاں صفائی کر رہی ہیں کچھ اتا پتا نہیں ہے، سینکڑوں پلاسٹک ڈسٹ بنز رکھ دئیے گئے ہیں جو کہ کچرا کنڈیوں کے خاتمے کی نوید نہیں سنا رہے کیونکہ ایسا تب ہی ممکن ہوگا جب کراچی میں گھر گھر کچرا اٹھانے کا کام حتمی شکل اختیار کر جائے گا اس کے بعد مووایبل اور امووایبل کچرا کنڈیاں ختم ہو جائیں گی اضلاع میں کچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا نظام اورطریقہ کار وہ ہی ہے جو ضلعی بلدیات کے زیر انتظام تھا، شہر میں کچرا اب بھی بیک لاگ کی صورت میں موجود ہے جسے روزانہ سینکڑوں گاڑیاں اضافی لگانے کے بعد ہی اٹھایا جا سکتا ہے جس کی کوئی حکمت عملی ابتک طے نہیں کی جا سکی ہے کہ یہ جمع شدہ کچرا اٹھے گا بھی یا نہیں البتہ حیرت انگیز اقدام جوسندھ سولڈ ویسٹ بورڈ کی جانب سے دیکھنے میں آتا ہے کہ اس نے کراچی میں بیک لاگ ختم کرنے کیلئے کئی مرتبہ ٹینڈرز کئے لیکن بیک لاگ ختم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے،اس صورتحال میں جب سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ صفائی کے حوالے سے خاص اقدامات کرنے سے گریزاں ہے صوبائی وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کو بورڈ کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کی ضرورت ہے اس کے بعد ممکن ہے کہ صفائ ستھرائی کی صورتحال میں بہتری آسکے،اسوقت صورتحال یہ ہے کہ ایس ایس ڈبلیو ایم بی پر صوبائی حکومت کا خاص کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے معاملات ابتری کی جانب گامزن ہیں.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں