ٹھیلے، پتھاروں کے کاروبار کرنے والوں کیلئے متبادل انتظام کرنے پڑیں گے

تجاوزات کے خاتمے کیلئے دور اندیش حکمت عملی اپنانے سے گریز

رسمی کاروائیاں تجاوزات کی بھرمار بڑھا رہی ہیں

ٹھیلے، پتھاروں کے کاروبار کرنے والوں کیلئے متبادل انتظام کرنے پڑیں گے

کراچی(رپورٹ: فرقان فاروقی)کراچی دنیا کے ان شہروں میں صف اول میں شمار ہوتا جارہا ہے جہاں پبلک پراپرٹی کو بلادریغ استعمال کیا جاتا ہے جس کی اہم وجہ یہ ہے کہ یہاں اداروں کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے اداروں کا کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے دور اندیشانہ حکمت عملی اپنائے نہ جانے کی وجہ سے تجاوزات کا خاتمہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سہانا خواب بنتا جارہا ہے شہر میں تجاوزات کی شکل میں سب سے زیادہ تعداد ٹھیلے اور پتھاروں کی ہے اور یہ وہ طبقہ ہے جو پیسہ نچھاور کر کے روزی روٹی کمارہا ہے بیش تر ٹھیلے اور پتھاریدار روزانہ کی بنیاد پر کماتے اور کھاتے ہیں اور انہیں ختم کرنا اس لئے ناممکنات میں شامل ہوگیا ہے کہ لاکھوں افراد کے کھانے کے لالے پڑ جائیں گے انہیں ختم کرنے کا مطلب بیروزگاری کو فروغ دینا ثابت ہوسکتا ہے ایسی صورت میں انہیں ریگولرائز کرنے کے سوا کوئی اور چارہ دکھائ نہیں دیتا انہیں ریگولرائز کرنے میں بھی مشکلات حائل ہیں کیونکہ پبلک پراپرٹی پر انہیں ریگولرائز نہیں کیا جاسکتا اب ممکن یہ ہی ہے کہ بازاروں سمیت جہاں جہاں ٹھیلے، پتھاروں کی تعداد زیادہ ہے وہاں بازار کی حدود میں عمارتی یا زمینی سطح پر اضافہ کرکے چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ دیا جائے جسے ٹھیلے اور پتھاروں کیلئے مختص کردیا جائے اس کے سوا تجاوزات کیخلاف کاروائیاں بیکار ثابت ہونگی اور ایسا دیکھنے میں بھی آرہا ہے ایمپریس مارکیٹ پر تجاوزات ہٹانے کیلئے کاروائی کی گئ وہ کامیاب بھی رہی لیکن یہ حقائق سب کے سامنے ہیں کہ ٹھیلے، پتھارے تاحال جگہ بدل کر اب بھی موجود ہیں گزشتہ دس برسوں میں تجاوزات کیخلاف سینکڑوں کاروائیاں ہوئیں لیکن ان میں کامیابی کا تناسب دس فیصد بھی نہیں ہے ان کاروائیوں کی وجہ سے تجاوزات کم نہیں بلکہ بڑھ رہی ہے بلدیہ عظمی کراچی کے سینئیر افسر کا کہنا ہے کہ تجاوزات کا خاتمہ صرف متبادل راستے اختیار کر کے ہی ممکن ہے یہ ایسی انڈسٹری یا مافیا بن چکی ہے جسے ختم کرنا ممکن نہیں ہے، ٹھیلے، پتھارے والے غریب لوگ ہوتے ہیں ان کی بددعائیں کئی افسروں اور ملازمین کی زندگیاں اجاڑ چکی ہیں جس کا میں خود گواہ ہوں لہذا بہتر یہ ہی ہے ادارے اور موثر حکمت عملی کے بعد تجاوزات کے خاتمے کی جانب قدم اٹھائے جائیں.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں