آئندہ مردم شماری کراچی کی بقا اور بہتری کی ضامن ہے
درست مردم شماری کے بعد ہی کراچی مسائل کے جنگل سے نکل کر شہر بن سکتا ہے
کراچی(رپورٹ:فرقان فاروقی)کراچی کے لحاظ سے مردم شماری کی اطلاع کے بعد مختلف حلقوں میں یہ موضوع زیر بحث ہے، پچھلی مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو کروڑ تقریبا پونے دو کروڑظاہر کیا گیا ہے جبکہ کراچی کی اصل آبادی کا تخمینہ کم ازکم تین کروڑ سے زائد ہے جس میں غیر مستقل آبادی کو جو دراصل مستقل آبادی کے طور پر کراچی جیسے شہر میں موجود ہیں اگر انہیں اس میں شامل کر لیا جائے تو آبادی ناقابل یقین حد تک بڑھ جائے گی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق کراچی میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کم سے کم 50 لاکھ رہائشی یونٹس ہیں جن میں اوسطا ایک رہائشی یونٹ میں چھ افراد کی رہائش کا تعین کر لیا جائے تو کراچی کی آبادی تین کروڑ سے کسی طور بھی کم نہیں ہے جبکہ تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد سرکاری اعداوشمار کا آنا باقی ہے لیکن غیر سرکاری اعدادوشمار کے تحت کراچی کی آبادی گزشتہ مردم شماری سے دگنی ہے اگر اس تسلسل کو برقرار رکھا گیا تو آئندہ بھی کراچی کیلئے مسائل پیدا ہونگے کیونکہ اگر آئندہ بھی کم تعداد ظاہر کی گئی تو کراچی کو وسائل بھی اس کے مطابق فراہم کئے جائیں گے جو کسی طور بھی شہر کیلئے مناسب نہیں ہے سابقہ مردم شماری فوج کی نگرانی میں کروائی گئی تھی آئندہ بھی مردم شماری بھی فوج کی نگرانی میں ہونی چاہیئے اور انہیں اختیارات ملنے چاہیئں کہ جو معلومات وہ فراہم کریں گے اس کے سوا کسی کو نہ مانا جائے تب تو ممکن ہے کہ مردم شماری درست ہو جائے اگر یہ معاملات کسی اور کی جانب سے دیکھے گئے تو نتائج کا مختلف آنا ممکن نہیں دکھائ دے رہا ہے، کراچی کی بہتری اور یہاں رہنے والوں کی بقا اور بہتری کیلئے ضروری ہے کہ کراچی کی مردم شماری درست ہو کیونکہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے کراچی کے باسی شہری مسائل میں گھرے ہوئے ہیں جس سے نکلنے کیلئے کراچی کی درست مردم شماری لازم وملزوم کی حیثیت اختیار کر گئ ہے.



