میونسپل کمشنر کی مرضی اب چلے گی کیا؟

میونسپل کارپوریشن کی مرضی اب چلے گی؟

اگر سندھ حکومت، سپریم کورٹ کے فیصلے کے آگے کھڑی نہ ہوئی تو

کراچی … میونسپل کارپوریشن میں لفظ کارپوریشن اسے اس لحاظ سے ممتاز کرتا ہے کہ کارپوریشن اپنے اختیارات میں رہتے ہوئے فرائض سر انجام دیتی ہے اور اس کی مرضی کے بغیر حکومت بھی اپنے فیصلے اس پر مسلط نہیں کر سکتی لیکن ایسا میونسپل کارپوریشنز کے ساتھ نہیں ہوا حکومت سندھ نے سندھ لوکل گورئمنٹ ایکٹ 2013 کے نفاذ کے بعد کارپوریشنز کو مفلوجیت کا شکار کیا ایس ایل جی اے 2013 کی شق 74 کے تحت سینی ٹیشن کے محکمے کو سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بنا کر انضمام کر دیا جس کیلئے میونسپل کارپوریشنز کو مجبور کیا گیا کہ وہ سینیٹیشن کے حوالے سے خدمات بورڈ کو منتقل کریں آج کراچی کی تمام ضلعی میونسپل کارپوریشنز نے بحالت مجبوری صفائ ستھرائ کی خدمات سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو منتقل کردی ہیں یہ درست ہے کہ انہوں نے یہ خدمات اپنی کونسل سے منظور کرکے بورڈ کو منتقل کی ہیں لیکن درحقیقت انہیں اتنا مجبور بنانے کے ساتھ بلدیاتی اداروں اور شہریوں کو ایسے سہانے خواب دکھائے گئے کہ انہیں ایسا کرنا پڑا لیکن 2014 کے بعد سے اب تک سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سہانے خواب کو پورا کرنے میں ناکام ہے ایسے میں سپریم کورٹ نے عوامی توقعات کے عین مطابق سندھ حکومت کو بااختیار بلدیاتی نظام قائم کرنے کا کہا ہے، ایسا ہوا تو کارپوریشنز اپنا اصلی مقام پانے میں کامیاب ہو جائیں گی اور اپنے طور پر بلدیاتی خدمات کی فراہمی میں بہتری لاسکیں گی عام آدمی کی دسترس میں بلدیاتی اداروں اور نمائندگان تک پہنچنا آسان ہے لہذا ایسا کرنا ناگزیر ہوچکا ہے.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں