سپریم کورٹ نے ایس ایل جی اے 2013کی شق 74اور 75 کو کالعدم قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے ایس ایل جی اے 2013کی شق 74اور 75 کو کالعدم قرار دے دیا

دونوں شقیں بااختیار بلدیاتی نظام کی راہ میں رکاوٹ ہیں

کراچی ( افضل سندھو) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ میں نافذ بلدیاتی نظام جسے سندھ لوکل گورئمنٹ ایکٹ 2013 کہا جاتا ہے پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایک بہت اہم فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سندھ لوکل گورئمنٹ ایکٹ کی شق نمبر 74،75 کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے مذکورہ دونوں شقیں بلدیاتی اداروں کی خود مختاری کیلئے بڑا چیلنج ہیں شق 74 میں درج ہے کہ سندھ حکومت جب چاہے بلدیاتی اداروں سے کوئ محکمہ، ادارہ اپنے کنٹرول میں کرسکتی ہے یا جو محکمہ وادارہ چاہے سندھ حکومت سے بلدیاتی اداروں کو دے سکتی ہے یہ ایسی شق ہے جو براہ راست بلدیاتی اداروں کی خود مختاری کو چیلنج کرتی ہے شق کی پہلی اور دوسری ذیلی شقیں سندھ حکومت کو با اختیار بناتی ہیں کہ وہ بلدیاتی اداروں میں مداخلت کرکے اس کے نظم ونسق کو اپنی مرضی سے چلائیں اسی شق کی بدولت بلدیاتی اداروں سے سینی ٹیشن کا محکمہ لے کر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم کر دیا گیا جس کے تحت مرحلہ وار کراچی کی تمام ڈی ایم سیز نے صفائ ستھرائ کے معاملات چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو منتقل کر دئیے ہیں جو ڈی ایم سیز کے صفائ کے بجٹ سے تین گنا بڑا بجٹ رکھنے کے باوجود صفائ ستھرائ کے نظام کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے اس کے بعد ہیلتھ اور ایجوکیشن کے محکمے کو بلدیاتی اداروں سے سندھ حکومت کو منتقلی کے بارے میں کوششیں کی جارہی ہیں جو کہ سراسر بلدیاتی اداروں کے حقوق پر ڈاکہ ہے اس لحاظ سے سپریم کورٹ کا شق 74 کا کالعدم قرار دینا بالکل درست ہے شق نمبر 75 میں بلدیاتی اداروں کی جانب سے ترقیاتی پروجیکٹس کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے جس میں سب سے خطرناک اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات کو غصب کرنے کی ایسی مثال قائم کی گئ جو کبھی نہیں کی گئ اس شق کے تحت سندھ گورئمنٹ بورڈ یا اتھارٹی قائم کر کے بلدیاتی اداروں کے ایک یاایک سے زائد معاملات اپنے ہاتھوں میں لے سکتی ہے جبکہ اسی شق کے تحت سندھ گورئمنٹ کونسل کی منظوری کے بعد کسی بھی اسکیم یا ترقیاتی اسکیم کو ہتھیا سکتی ہے یعنی یہ وہ شق ہے جس کے تحت بلدیاتی ادارے ترقیاتی اسکیموں میں محدود ہو کر رہ گئ ہے اسی شق کی وجہ سے بلدیاتی ادارے محدود ترقیاتی اسکیمیں سر انجام دے پاتے ہیں اور کونسل کے جو بھی بڑے پروجیکٹس ہیں اس کیلئے کلک نامی ادارہ تشکیل دے دیا گیا ہے جس نے کونسل کے ترقیاتی معاملات اپنے ہاتھوں میں لے رکھے ہیں ان دونوں شقوں کا کالعدم قرار دیا جانا بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں مداخلت کو کنٹرول کرنے میں انتہائ اہم کردار ادا کرے گا، ایم کیوایم پاکستان کو بھی اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے کونسل کے اختیارات کے حوالے سے پٹیشن دائر کی جس میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات پر قدغن لگائے گئےمعاملات کو آشکار کیا.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں