
فوج کے ہزاروں اہلکار، کوسٹ گارڈ اور آگ بھجانے والے عملے کے اراکین کو مختلف علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے۔
رائے طوفان سے ہونے والے نقصان کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بجلی اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جس سے ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
فلپائن میں ریڈ کراس کے سربراہ رچرڈ گورڈن کا کہنا ہے کہ کچھ علاقے تو ایسے ہیں جو لگتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے مقابلے میں زیادہ بری طرح تباہ ہوئے ہیں۔
ریڈ کراس کی انٹرنیشل فیڈریشن اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی جانب سے طویل مدت تک امدادی سرگرمیوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر دو کروڑ بیس لاکھ ڈالر فنڈ کی اپیل کی گئی ہے۔
یاد رہے کیٹگری 5 کا سمندری طوفان فلپائن کے جنوبی ساحل سے ٹکرایا تھا۔ سمندری طوفان کی وجہ سے موسلا دھار بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
بری طرح متاثرہ علاقوں میں کئی عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں، جہاں سے رہائشیوں کو مٹی اور ملبے میں سے اپنے تباہ شدہ گھروں سے سامان نکالتے دیکھا جا سکتا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی پی این اے کے مطابق اب تک اندازے کے مطابق 4.2 ملین ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ فلپائن میں رواں سال کا یہ پندرہواں طوفان ہے جسے اب تک آنے والے طوفانوں میں سب سے شدید سمجھا جا رہا ہے۔



