
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے تھامس ویسٹ کا کہنا تھا کہ ’آج او آئی سی کا ایک نتیجہ خیز اجلاس ہوا جس میں ہیومینیٹیرین ٹرسٹ فنڈ کے قیام کے ساتھ ساتھ افغانستان کے لیے او آئی سی کے نمائندہ خصوصی کا بھی تقرر کیا گیا‘۔
A productive OIC session today with important outcomes – not least the creation of a humanitarian trust fund and the naming of an OIC Special Envoy. The U.S. warmly welcomes the OIC’s role and contributions. #OIC4Afg https://t.co/eTaeAIOF6K
— U.S. Special Representative Thomas West (@US4AfghanPeace) December 19, 2021
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکا، او آئی سی کے کردار اور معاونت کا خیر مقدم کرتا ہے‘۔
کانفرنس میں وزیر اعظم عمران خان، او آئی سی کے سیکریٹری جنرل، رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، مندوبین اور مبصرین کے علاوہ اقوام متحدہ کی مختلف تنظیموں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، پی فائیو، یورپی یونین اور دیگر اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر افغانستان کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک کے زیر انتظام ہیومینٹیرین ٹرسٹ فنڈ قائم اور افغان تحفظ خوراک پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور افغانستان کے او آئی سی کے لیے نمائندہ خصوصی کا تقرر بھی کیا گیا۔
اسلامی تعاون تنظیم نے اپنے جنرل سیکرٹریٹ میں انسانی ہمدردی، ثقافتی اور خاندانی امور کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل سفیر طارق علی بخیت کو او آئی سی سیکریٹری جنرل کا افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
علاوہ ازیں سعودی عرب نے افغانستان کو ایک ارب ریال کی امداد کی اعلان کیا۔



