سندھ لوکل گورئمنٹ ایکٹ میں ترامیم کی کچھ جھلکیاں

سندھ لوکل گورئمنٹ ایکٹ میں ترامیم کی کچھ جھلکیاں

کراچی میں ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز کا خاتمہ ہوگیا

ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کی جگہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن ہونگی

میٹروپولیٹن کارپوریشن اور میونسپل کارپوریشنز میں ٹاؤن ڈسٹرکٹ کی جگہ میونسپل کارپوریشنز کا درجہ حاصل کرینگی

مختلف شقوں میں ڈسٹرکٹ کی جگہ ٹاؤن کو وہ ہی اختیارات دے دئیے گئے ہیں جو ڈسٹرکٹ کو حاصل تھے

جو ٹیکسز اور فیسز ڈسٹرکٹ وصول کرتے تھے اب ٹاؤن وصول کرینگے

شہری علاقوں میں بدستور یونین کمیٹیاں اور دیہی علاقوں میں یونین کونسلیں ہونگی

یوسی میں چئیرمین اور وائس چئرمین بالترتیب میٹروپولیٹن یا میونسپل کارپوریشن کا حصہ ہونگے

یوسی وائس چئیرمین ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کی کونسل کے رکن ہونگے

یوسی چئیرمین، مئیر اور ڈپٹی مئیر کا انتخاب کرینگے

یوسی وائس چئیرمین ٹاون کے چئیرمین اور وائس چئیرمین کا انتخاب اور کونسل کے رکن ہونگے

میٹروپولیٹن کارپوریشن کم ازکم پچاس لاکھ نفوس پر مشتمل ہوگی

میونسپل کارپوریشن 30 لاکھ سے پچاس لاکھ نفوس پر مشتمل ہوگی

میٹروپولیٹن کارپوریشن میں ٹاؤن کی آبادی پانچ لاکھ سے ساڑھے سات لاکھ ہوگی

میونسپل کارپوریشن میں ٹاؤن کی آبادی ایک لاکھ پچیس ہزار سے ساڑھے تین لاکھ افراد پر مشتمل ہوگی

میونسپل کمیٹی کی آبادی پچاس ہزار سے تین لاکھ ہوگی

میٹروپولیٹن کارپوریشن کی یونین کمیٹی کی آبادی 45000سے 75000ہوگی

ٹاؤن کمیٹی کی آبادی پندرہ ہزار سے پچاس ہزار تک ہوگی

یونین کونسل کی آبادی دس ہزار سے پچیس ہزار تک ہوگی

میونسپل کارپوریشن کی یونین کمیٹیز کی آبادی دس ہزار سے پچیس ہزار تک ہوگی

میونسپل کمیٹی میں وارڈ کی آبادی ساڑھے چار ہزار سے سات ہزار ہوگی

ٹاؤن کمیٹی میں وارڈ کی آبادی ڈھائ ہزار سے پانچ ہزار تک ہوگی

مین روڈز، پلوں، انڈر بائ پاسز ودیگر جگہوں سے ایڈورٹائزمنٹ ٹیکس میٹروپولیٹن کارپوریشن وصول کرے گی

فائر اینڈبلڈنگ سیفٹی ٹیکس بھی کے ایم سی وصول کرے گی

میرج ہال اور کلبس سے بھی کے ایم سی ٹیکس وصول کرے گی

پیش کردہ بل میں کہاگیا ہے کہ اس میں نوٹیفیکیشنز کے ذریعے تبدیلیاں بھی کی جاسکتی ہیں

ممکنہ طور پر سندھ سالڈ ویسٹ، واٹر بورڈ، ایس بی سی اے ودیگر شہری ادارون کے متعلق اختیارات نوٹیفیکیشن کے ذریعے دئیے جائیں گے

جو اختیارات مئیر، چئیرمین کو دئیے جائیں گے ان کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری ہوگا

گزٹ نوٹیفیکیشن بلدیاتی ایکٹ کا حصہ بنا دیا جائے گا

فی الوقت ترمیم شدہ بل میں ڈسٹرکٹ کو ٹاؤن کا درجہ دیا گیا ہے

دیگر اختیارات کے حوالے سے ابھی کوئ بات واضح نہیں ہے

کراچی سمیت سندھ کی دیگر میونسپل کارپوریشنز میں کتنے ٹاؤن ہونگے یہ بھی واضح نہیں ہے

ممکنہ طور پر کراچی کو ابتدائ طور پر سابقہ اٹھارہ ٹاؤن پر بحال کیا جاسکتا ہے

بعد ازاں ایکٹ کے مطابق ٹاؤنز کی تعداد بڑھائ جاسکتی ہے۔

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں