سعودی عرب میں 20 سال پرانے کیس کا ڈرامائی ڈراپ سین

سعودی عرب میں 20 سال پرانے کیس کا ڈراپ سین
سعودی عرب میں 20 سال پرانے اغوا کیس کا ڈرامائی ڈراپ سین ہوگیا ہے۔ پولیس نے 3 بچوں کے اغوا کیس میں خاتون سمیت 5 افراد کے خلاف چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے سر قلم کرنے کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

پراسیکیوشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دمام میں آج سے 20 قبل 3 بچے لاپتہ ہوئے۔ اس وقت ان کے اہل خانہ نے مقدمات بھی درج کروائے مگر تفتیش کے باوجود بچوں کا کوئی سراغ نہ ملا۔

حالیہ دنوں میں ایک خاتون نے متعلقہ ادارے کو درخواست دی کہ اسے دو بچوں کے لیے شناختی دستاویزات جاری کی جائیں۔ خاتون نے دعوی کیا کہ دونوں بچے اسے 20 سال قبل لاوارث ملے تھے۔ اس نے انہیں پال پوس کر بڑا کیا۔ اب ان کو شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات کی ضرورت ہے۔

معاملہ مشکوک سمجھ کر پبلک پراسیکیوٹر شیخ سعود بن عبداللہ المعجب نے تفتیشی اداروں کو تحقیقات کی ہدایت دی۔ اس دوران ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ دونوں بچوں کا خاتون سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان بچوں کا ڈی این اے سعودی خاندانوں کے ساتھ مل گیا جنہوں نے 20 سال قبل اپنے بچوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کروائی تھی۔

پراسیکیوشن نے جن پر 5 افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی ہے، ان میں 4 سعودی اور ایک یمنی باشندہ ہے۔ اس کے علاوہ خاتون پر دیگر ملزمان کے ساتھ ساز باز اور سرکاری اداروں کے ساتھ غلط بیانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پبلک پراسیکیوشن نے عدالت میں استدعا کی ہے کہ ملزمان نے زمین میں فساد پھیلانے کے عمل کا ارتکاب کیا۔ اس لیے تین ملزمان کو سر قلم کیے جائیں جبکہ بقیہ دو ملزمان کو بھی عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پبلک پراسیکیوشن کی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق تفتیش کے دوران 21 ملزمان اور عینی شاہدین کے ساتھ پوچھ گچھ کے 40 سیشن ہوئے۔ تحقیقات مکمل ہونے پر پانچ افراد کو ملزم ٹھہرایا گیا۔ ان میں ایک شخص سعودی عرب سے باہر مقیم ہے۔ پبلک پراسیکیوشن نے انٹرپول کے ذریعے اس کی واپسی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet