عوامی مسائل اور بلدیاتی نظام کراچی کے گلی کوچوں سے ایک صحافی کی ڈائری
تحریر فرقان فاروقی
صحافت صرف ایوانوں کی خبریں دینے یا پریس ریلیز چھاپنے کا نام نہیں ہے، بلکہ صحافت کا اصل مقصد معاشرے کے اس طبقے کی آواز بننا ہے جو بنیادی سہولیات کے لیے بھی ترس رہا ہے۔ جب ہم کراچی، خاص طور پر ملیر، کورنگی اور وسطی اضلاع کے گلی کوچوں کا دورہ کرتے ہیں، تو چمکدمک کرتی شاہراہوں کے پیچھے چھپے وہ حقیقی عوامی مسائل نظر آتے ہیں جو عام شہری کا روز کا مقدر بن چکے ہیں۔ کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے میں ان مسائل کا واحد حل ایک مضبوط اور فعال بلدیاتی نظام (Local Government System) ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ نظام ہمیشہ سے تجربات کی زد میں رہا ہے۔
بلدیاتی نظام کسی بھی جمہوریت کی بنیاد ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ گلی محلے کے مسائل جیسے کہ پینے کا صاف پانی، سیوریج کی لائنیں، سڑکوں کی مرمت، اسٹریٹ لائٹس اور کچرا اٹھانے کا انتظام مقامی نمائندے خود سنبھالیں، کیونکہ ایک عام شہری اپنے علاقے کے کونسلر یا یوسی چیئرمین تک جتنی آسانی سے پہنچ سکتا ہے، وہ کسی صوبائی وزیر یا رکنِ اسمبلی تک نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن جب بلدیاتی اداروں کو فنڈز اور اختیارات سے محروم کر دیا جائے، تو پورا نظام مفلوج ہو جاتا ہے، جس کا براہِ راست خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
کراچی کے مضافاتی اور بلدیاتی ٹاؤنز کا سب سے بڑا مسئلہ اس وقت انفراسٹرکچر کی بدحالی اور ترقیاتی اسکیموں میں مبینہ کرپشن ہے۔ کاغذات پر لاکھوں کروڑوں روپے کے ترقیاتی کام دکھا دیے جاتے ہیں، لیکن زمین پر صورتحال جوں کی توں رہتی ہے۔ سڑکیں بننے کے چند ہی ماہ بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مٹیریل کس قدر ناقص استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ، بلدیاتی اداروں میں “گھوسٹ ملازمین” (Ghost Employees) اور میرٹ کے خلاف ہونے والی ترقیاں وہ خاموش دیمک ہیں جو عوام کے ٹیکس کے پیسے کو چاٹ رہی ہیں۔ جو ملازم گھر بیٹھے تنخواہ لے گا، وہ گلی کی صفائی یا سیوریج کا نظام کیسے ٹھیک کرے گا؟
انقلاب نیوز نیٹ ورک (Voice of the Public) کے پلیٹ فارم سے جب ہم ان مسائل پر تحقیقاتی رپورٹنگ کرتے ہیں، تو ہمارا مقصد صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ حکامِ بالا تک سچائی پہنچانا ہوتا ہے۔ عوام اب جاگ چکے ہیں، وہ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اپنے حقوق کی آواز اٹھا رہے ہیں۔ سندھ لوکل گورنمنٹ بورڈ اور صوبائی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کیے جائیں گے اور بلدیاتی فنڈز کا شفاف آڈٹ نہیں ہوگا، تب تک شہر کے حالات نہیں بدل سکتے۔
وقت آ گیا ہے کہ بلدیاتی نظام کو سیاسی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر خالصتاً عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا جائے۔ غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ، پانی کی منصفانہ تقسیم اور ترقیاتی کاموں میں شفافیت ہی اس شہر کو دوبارہ “روشنیوں کا شہر” بنا سکتی ہے۔ ہم اپنی قلمی جہدوجہد جاری رکھیں گے کیونکہ عوام کی آواز ہی ہماری طاقت ہے۔
