- کراچی (فرقان فاروقی) سندھ اسمبلی میں صوبے کے لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کے حق میں ایک اہم آواز بلند کر دی گئی ہے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران سرکاری نوکریوں میں عمر کی بالائی حد (Maximum Age Limit) میں اضافے کے لیے ایک اہم ترین قرارداد پیش کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ قرارداد پوزیشن رہنما شبیر قریشی کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی، جس میں سندھ کے نوجوانوں کو درپیش روزگار کے سنگین مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔
“2012 سے نوجوان روزگار سے محروم ہیں”
ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے شبیر قریشی کا کہنا تھا کہ سندھ میں سال 2012 سے اب تک نوجوانوں کو میرٹ پر سرکاری نوکریاں فراہم نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے صوبے بھر میں بے روزگاری کا گراف تیزی سے بڑھا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں اور نوکریوں پر طویل پابندیوں کے باعث لاکھوں باصلاحیت نوجوان سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی قانونی عمر سے تجاوز (Over-age) کر چکے ہیں، جو کہ ان کے مستقبل کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
قرارداد کے اہم مطالبات:
- عمر کی حد میں اضافہ: سندھ کے نوجوانوں کے ضائع ہونے والے سالوں کا ازالہ کرنے کے لیے سرکاری نوکریوں کے لیے عمر کی بالائی حد کو فوری طور پر بڑھایا جائے۔
- روزگار کے نئے مواقع: صوبے میں طویل عرصے سے معطل سرکاری بھرتیوں کے عمل کو شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر فوری شروع کیا جائے۔
سندھ اسمبلی میں اس قرارداد کے پیش ہوتے ہی ایوان میں موجود دیگر اراکین اور نوجوانوں کے حلقوں کی جانب سے اسے بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے، اور یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ حکومت اس دیرینہ مسئلے پر فوری قانون سازی کرے۔
