
بھارت میں برسر اقتدار انتہا پسند جنونی ہندوؤں کی جماعت بی جے پی کے نامزد وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے روایتی بے حسی اورانسانیت سوزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور انسانی حقوق کے کارکن اور اقلیتوں کے مذہبی پیشوا کی جان لے لی ہے۔
مودی سرکار کے حکم پر گرفتار کیے جانے والے انسانی حقوق کے کارکن اور مذہبی پیشوا 84 سالہ پادری اسٹان سوامی کا ضمانت کی درخواست کی سماعت سے قبل انتقال ہو گیا ہے۔ وہ گزشتہ 9 ماہ سے قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے تھے۔ انہیں انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت بنا کسی مقدمے کے قید میں رکھا گیا تھا۔
پادری اسٹان سوامی نے پسماندہ قبائلی کمیونیٹیز کے لیے مہم چلائی تھی تو انہیں 2018 میں بھارت کی مختلف ذاتوں کو مبینہ طور پر تشدد پہ اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
پارکنسن اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہونے کے باوجود پادری سٹان سوامی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ہفتے کے اختتام پر ان کو ہارٹ اٹیک بھی ہوا تھا۔
اسٹان سوامی کو غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد کا ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت تحویل میں لیا گیا تھا۔ اس متنازع قانون کے تحت ملزمان کو غیر معینہ مدت تک تحویل میں رکھنے کی اجازت ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے اس قانون کو صحافیوں، طلبہ اور دیگر افراد کو گرفتار کرنے کے لیے بری طرح سے استعمال کیا ہے اور بطور خاص اپنے مخالفین کو اس کا نشانہ بنایا ہے۔
فروری میں حکومت نے کہا تھا کہ 2016 اور 2019 کے درمیان تقریباً 6 ہزار افراد کو غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد کے ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے 132 افراد کو سزا سنائی گئی تھی۔
انسانی حقوق کے دفاع سے متعلق اقوام متحدہ کi نمائندہ خصوصی میری لاؤلر نے اس ضمن میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں گرفتاری کے 9 ماہ بعد ان کی حراست میں موت ہوگئی ہے۔ انہوں ںے واضح طور پر کہا ہے کہ انسانی حقوق کے محافظوں کو جیل میں رکھنا ناقابل معافی ہے۔
انسانی حقوق پر یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی ایمون گلمور نے بھی اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ سوامی کو بے بنیاد الزامات کے تحت جیل بھیج دیا گیا تھا۔
عالمی خبر رساں ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے اسٹان سوامی کے وکیل مہر ڈیسائی نے بتایا ہے کہ گرفتاری کے وقت پادری صحت مند نہیں تھے۔ انہوں ںے واضح طور پر کہا کہ مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں کی ایجنسیوں کو ان کی موت کا ذمہ دار ٹھہرانا جانا چاہیے جنہوں نے ان کے کیس کو ہینڈل کیا۔
جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورن نے کہا ہے کہ انہوں نے ان کی گرفتاری اور نظر بندی کی سخت مخالفت کی تھی۔



