بحریہ ٹاؤن کاواقعہ بڑی تبدیلیوں کا موجب بننے جارہا ہے؟
بحریہ ٹاؤن واقعہ، ذمےدار کون، کراچی کے شہری بے یاروں مدگار، کراچی کے شہریوں کے لیے چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد کے نظریہ اور تحفظات،

کراچی (رپورٹ: فرقان فاروقی)گزشتہ روز بحریہ ٹاؤن کا واقعہ کئی لحاظ سے اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے ایک ایسی ریلی کی سندھ حکومت کی جانب سے کورونا کی موجودگی میں جس کی اجازت دیا جانا جو کہ کلی طور پر لسانی اکائی ہے کئی سوالوں کوجنم دے رہی ہے ایک طرف کورونا ایس اوپیز کی آڑ میں مخصوص آبادی کو کاروباری طور پر مفلوج بنانا اور دوسری جانب ایس اوپیز کو سبوتاژ کرنا اور اب بحریہ ٹاؤن کو آگ وخون میں نہلانے کی کوشش جہاں زیادہ تر مہاجر کمیونیٹی نے اپنی زندگی بھر کی پونجی خرچ کر کے رہائش اختیار کر رکھی ہے انہیں ڈرا دھمکا کر بیدخل کرنے کی کوشش کیجارہی ہے اور کراچی میں عام تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ مہاجر کمیونیٹی بے یارو مددگار ہو چکی ہے اور جب چاہیئں انہیں کشت وخون میں نہلا سکتے ہیں، کھلے عام پاکستان کے خلاف نعرے لگے لیکن تحریر لکھے جانے تک ایک بھی شخص غدار وطن قرار نہیں دیا گیا ہے صرف دو وربالی سی ایف آئی آر درج کروادی گئی ہیں جو کے ایک مزاحیہ خیز عمل نظر آتا ہے

جو مہاجر کمیونیٹی کو بے چین کر رہا ہے جن کے دلوں میں پاکستان سے اٹوٹ محبت بسے ہونے کے باوجود ایک شخص کی وجہ سے انہیں وفاداری کے سرٹیفیکٹ دینے پڑ رہے ہیں جن میں بیش تر وہ لوگ شامل ہیں جن کے خاندان کے خاندان پاکستان کیلئے کٹ گئے، بحریہ ٹاؤن واقعہ تو گزشتہ روز رونما ہوا ہے مہاجر کمیونیٹی کو دیوار سے لگائے جانے کا عمل گزشتہ چار برس میں کونسا ایسا کام نہیں کیا گیا جس کے اثرات آج دکھائی نہیں دے رہے ہیں کراچی میں کاروبار کرنے کیلئے سختیاں کون جھیل رہا ہے؟ سرکاری اداروں میں موجود مہاجر کمیونیٹی کے افسران وملازمین خوف وہراس کا شکار ہونے کے ساتھ ترقیوں سے محروم کیوں کر دئیے گئے ہیں. شہری وبلدیاتی اداروں میں شب خون کی طرز پر مقامی افسران وملازمین انکوائریاں بھگتنے کے ساتھ پوسٹوں سے ہٹا کر غیر مقامی افسران وملازمین مسلط کیوں کر دئیے گئے ہیں،کراچی کے کسی بھی سرکاری یا کسی اور ادارے میں چلے جائیں اردو بولنے والے کا کام نہیں ہوتا لیکن دیگر زبان بولنے پر کام بھی ہو جاتا ہے اور نوازشات بھی کی جاتی ہیں، اردو بولنے والے علاقے کچرے سے لے کر کسی بھی قسم کی بلدیاتی سہولیات سے محروم ہیں نہ جانے کیا کیا زیادتیں ہیں جو اسوقت مہاجر کمیونیٹی کے ساتھ ہو رہی ہیں، سندھ کے وڈیروں نے کراچی کو اپنی جاگیر سمجھنا شروع کر دیا ہے جس کے اثرات بھی دکھائی دے رہے ہیں بحریہ ٹاؤن واقعے کے ذمہ داران کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن سندھ حکومت ہو یا قانون نافذ کرنیوالے ادارے وہ ایسے میں مہاجر یکجہتی کیلئے مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے چئیرمین آفاق احمد نے جو پیغام کراچی کی سیاسی جماعتوں تک پہنچایا ہے اس راستے کو اختیار کئے بغیر بہتری کی امید رکھنا عبث ہے مہاجر کمیونیٹی کی داد رسی کرنے کیلئے اب باہر سے آتا کوئی نہیں دکھائی دے رہا ہے تحریک انصاف کو مینڈیٹ کی پرواہ نہیں تو مہاجر کمیونیٹی کی کیا پرواہ ہوگی ایسے صورتحال میں جب آگے کنواں پیچھے کھائی جیسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے اس میں لسانی پلیٹ فارم کو مضبوط کرنا ضروری ہوگیا ہے وہ لسانی پلیٹ فارم نہ اب کسی بھی متحدہ، پی ایس پی کے پاس نہیں ہے ایک ہی رہنما بچا ہے جو مہاجر قوم کے درد کی بات کر رہا ہے ممکن ہے کہ وہ مہاجروں کو آگے کنواں پیچھے کھائی کی صورتحال سے باہر نکال لے، اس شہر کو بڑی مشکل سے نکلنے کیلئے سوچنا ہوگا کہ ایک مرتبہ مہاجر قومی موومنٹ کو آفاق احمد کی سربراہی میں دوبارہ مضبوط کر دیں ہوسکتا ہے کہ مہاجر کمیونیٹی کے مستقبل کی وابستگی اسی سے مشروط ہے. میڈیا خاموش
رینجرز خاموش
سندھ پولیس خاموش
گورنر سندھ خاموش
جی ڈی اے خاموش
سندھ حکومت خاموش
ریاستی ادارے خاموش
عوام بے بسی اور بے حسی کی تصویر بنے اپنے املاک کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں



