
غزہ میں اسرائیل کی بمباری آج دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی، آج صبح اسرائیلی طیاروں نےغزہ کے ساحلی علاقے میں شدید بمباری کی۔
اسرائیلی حملوں سے غزہ شہردھماکوں سے گونج اٹھا، حملوں کے نتیجے میں کئی علاقوں کی بجلی منقطع ہو گئی اور بڑی تعداد میں عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
غزہ کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ حملوں کی یہ شدت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
اسرائیل کی جانب سے یہ بمباری حماس کی طرف سے راکٹ حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ حماس کے راکٹ حملے میں اسرائیلی شہر اشدود میں کیے گئے جس کے نتیجے میں تین اسرائیلی شہری معمولی زخمی ہوئے۔
فسلطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت میں غزہ میں گزشتہ پیرسے اب تک 85 بچوں اور 34 خواتین سمیت شہید ہونے والوں کی تعداد 218 ہوگئی ہے جبکہ ساڑھے 5 ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔
گزشتہ روز غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 8 بچوں، 2 ڈاکٹروں سمیت 42 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔غزہ پر اتوار کی شب ہونے والے فضائی حملے ابھی تک کے سب سے زیادہ شدید حملے تھے۔
امریکا نے اسرائیل اور فلسطین پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرکے سیز فائر کی طرف آئیں۔
ڈنمارک کے دورے پر موجود امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ عام شہریوں کا تحفظ خاص طور پر بچوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم تشدد کی موجودہ لہر کو ختم کرنے کیلئے اپنی بہترین سفارتکاری کو بروئے کار لاتے رہیں گے، اگر فریقین سیز فائر چاہتے ہیں تو ہم اس میں تعاون کیلئے تیار ہیں۔
کوپن ہیگن میں موجود امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے دفاتر والی عمارت میں حماس کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں دیکھا، اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ اس حملے کی وضاحت کرے۔
انٹونی بلنکن نے کہا کہ اسرائیل اس حملے کا جواز بتائے کیوں کہ اس کی جانب سے فراہم کردہ شواہد میں نے ذاتی طور پر نہیں دیکھے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے غزہ کی دوسری بلند ترین عمارت کو گزشتہ دنوں 10 منٹ کی مہلت دیتے ہوئے بمباری کرکے منہدم کردیا گیا اور عمارت میں حماس کی نقل وحرکت کے ثبوت امریکا کو دینے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس عمارت میں امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس اور قطری میڈیا ہاؤس الجزیرہ کے دفاتر موجود تھے۔



