بلدیہ عظمیٰ ،محکمہ انسداد تجاوزات و لینڈ بشیر صدیقی نے سپریم کورٹ کے احکامات کو تجاوزات مافیا کو مزید وسعت اور ریٹ بڑھانے کا ذریعہ بنالیا

کراچی (نمائندہ خصوصی) بلدیہ عظمیٰ کراچی سئنیر ڈائریکٹر محکمہ انسداد تجاوزات و لینڈ بشیر صدیقی سمیت انکی ٹیم نے سپریم کورٹ کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ رکھی ہے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے احکامات کو اسکے برعکس تجاوزات مافیا کو مزید وسعت اور ریٹ بڑھانے کا ذریعہ بنالیا شہر اور شہریوں کو ” تجاوزات مافیا ” کے نشانے پر لے رکھا ہئے شہر اور شہریوں کی جیب سے غیرقانونی طور پر ” ہفتہ ماہانہ سالانہ لاکھوں کروڑوں اربوں ٹھکانے لگانے کا غیرقانونی دھندا ڈھٹائی سے جاری ڈسٹرکٹ کورنگی زون کے منظور نظر مہربان فرنٹ مین ڈائریکٹر مسرت خان نے زیر نگرانی ” راشی ڈپٹی ڈائریکٹرز کو بھاری وصولیوں کیلیے علاقہ کو تجاوزات مافیا کے ہاتھوں فروحت کردیا ڈسٹرکٹ کورنگی میں غیرقانونی گورکھ دھندوں کا ” ڈبل گیم ” جاری ( KMC LEASE ) کا ملازم ” تنویر اختر ” غیرقانونی طور پر مسرت خان کی زبانی ہدایات و آشیر واد کے تحت ” دوہرے چارج ” کے مزے لوٹ رہا ہئے ماڈل زون میں محکمہ انسداد تجاوزات و لینڈ انکروچمنٹ کا بے تاج بادشاہ بن کر ہفتہ / ماہانہ / سالانہ لاکھوں کروڑوں ٹھکانے لگا رہا ہے عرصہ 5 سالوں سے ماڈل زون میں بھتہ وصولی میں سرگرم ہئے مزکورہ مافیا نے اپنے ریاستی عہدے فرائض منصبی و اختیارات کو مال بناؤ مشن میں تبدیل کررکھا ہئے انتہائی بااعتماد و باوثوق اندرونی ادارتی علاقائی زرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تنویر اختر نے لگ بھگ ڈیڑھ ماہ قبل ملیر میں ” احمد گارمنٹ ” سے جنرل مینیجر وجاہت سے بلڈنگ میٹریل کی مد میں ( 4 ) لاکھ بطور رشوت / بھتہ وصول کیا قومی خزانے و ادارے کو بوگس چالان / بغیر چالان کی مد میں لاکھوں کروڑوں اپنی جیبوں میں جارہیں ہیں اور سرکار کو لاکھوں کروڑوں کا چونا و جھٹکا دیا جا رہا ہے تنویر اختر 14 گریڈ کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر جس نے گزشتہ ایک ڈیڑھ سال قبل 80 لاکھ / 1 کروڑ مالیت کا گھر خریدا جسکی مکمل تفصیل جلد شائع کی جائیگی جبکہ تنویر اختر نے بھی غیرقانونی طور پر اپنے زیر نگرانی 2 پرائیویٹ بیٹرز ” آفتاب پیا اور شفیق ” رکھ رکھیں ہیں جنھیں علاقے کو تاراج کرنے سمیت بھاری وصولیوں کا ٹاسک دے رکھا ہے اور وہ سپریم کورٹ ریاست و ادارتی بائی لاز کو تار تار کرنے کی زمہ داری بخوبی نباہ رہیں ہیں دوسری جانب شاہ فیصل زون کے راشی و کرپٹ ڈپٹی ڈائریکٹر جاوید قریشی نے تو سپریم کورٹ ریاست و ادارتی قاعدے قوانین کو اپنے جوتے تلے روندھ رکھا ہئے موصوف سیاسی اثرورسوخ کے علاؤہ ایسی پرچی و سفارش کے حامل ہیں کہ آج عرصے 20 سال سے شاہ فیصل زون کو تاراج کئے بیٹھیں ہیں اور بھاری وصولیوں کا ہدف و بزنس خوب چلا رہیں ہیں جبکہ ” محمد خالد جو گریڈ 17 کا ملازم ہے رواں مہینے میں اسے ماڈل زون کو کھنگالنے کیلے بھیجا گیا ہے جبکہ موصوف اس سے قبل لانڈھی زون کو تختہ مشق بنائے ہوئے تھے اور وہاں پیدا گیری کے دھندے میں پکڑے گئے جسکے بعد انھیں علاقہ بدر ہونا پڑا اور اب انھیں بھی ماڈل زون کو تاراج کرنے کی زمہ داری سونپتے ہوئے وہاں بھیج دیا گیا بلدیہ عظمیٰ کراچی کو کرپٹ سرکاری و سیاسی مافیا نے اپنی زاتی ملکیت و جاگیر میں تبدیل کرتے ہوئے اپنا قانون نافز کردیا ہئے منظور نظر کھلاڑیوں کو جب چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں تعینات کردیتے ہیں مختلف سیاسی سماجی مزہبی جماعتوں اور شخصیات نے سپریم کورٹ وزیر اعلیٰ سندھ گورنر سندھ وزیر بلدیات سمیت تمام تحقیقاتی اداروں سے اٹھائے گئے حلف اور اپنے فرائض منصبی کے مطابق سخت ترین قانونی  کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں